fbpx

وزیراعلیٰ کا انتخاب، ن لیگ تیار،اراکین ہوٹل پہنچ گئے،پی ٹی آئی کو پھر لگنے والا ہے بڑا جھٹکا

وزیراعلیٰ کا انتخاب، ن لیگ تیار،اراکین ہوٹل پہنچ گئے،پی ٹی آئی کو پھر لگنے والا ہے بڑا جھٹکا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن دوبارہ کروانے کا حکم دیا ہے

پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل جمعہ کو ہو گا لاہورہائیکورٹ کے حکم پر وزیراعلی ٰکے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے وزیراعلی ٰکے انتخاب کیلئے اجلاس کل شام 4 بجے ہوگا . ن لیگ اجلاس کے لئے متحرک ہے، اراکین اسمبلی کو ایک بار پھر ہوٹل پہنچا دیا گیا ہے، حمزہ شہباز اراکین کے ساتھ اجلاس میں جائیں گے،مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی نجی ہوٹل پہنچ گئے ایم پی اے میاں عبدالروف،توفیق بٹ،نواز چوہان و دیگر ہوٹل پہنچ گئے ہیں،

حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں فیصلے سے پنجاب میں 3 ماہ سے جاری آئینی بحران ہمیشہ کیلئے ختم ہوگا،اپوزیشن نے اپنی انا کی تسکین کیلئے صوبہ کو آئینی بحران میں دھکیلا،آئینی بحران کا سب سے زیادہ نقصان صوبے کے عوام کو اٹھانا پڑا سیاست برائے سیاست کا قائل نہیں ، سیاست کو خدمت کا درجہ دیتا ہوں مخلوق خدا کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا زندگی کا مقصد ہے ،آئین اور قانون سے ماورا کوئی اقدام نہیں کیا

قبل ازیں سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اجلاس ہوا، جس میں تحریک انصاف اور ق لیگ کی قیادت ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھی، اجلاس میں قانونی اور سیاسی لائحہ عمل کے حوالہ سے مشاورت کی گئی، اجلاس میں اسد عمر، پرویز الہی، مونسی الہیٰ و دیگر شریک تھے

16 اپریل 2022 کو حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بننے کیلئے 371 کے ایوان میں197 ووٹ ملے ، حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان اسمبلی ڈی سیٹ ہوئے، 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر پنجاب اسمبلی میں ممبران کی تعداد 346 رہ گئی مسلم لیگ ن کے پاس 165 سیٹیں ، پیپلزپارٹی کے 7، آزاد 3 اور راہ حق پارٹی کا ایک ووٹ بھی ن لیگ کے پاس ہے جس کے بعد حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 176 بنتی ہے

25 منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی 158 رہ گئے ہیں پی ٹی آئی کے 158، ق لیگ کے 10 ارکان مل کر اپوزیشن کے 168 ایم پی اے بنتے ہیں پی ٹی آئی کو 5 مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اپوزیشن اتحاد کی تعداد 173 بنتی ہے اور مخصوص نشستیں ملنے کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو اپوزیشن اتحاد پر 3 ووٹوں کی برتری ہوگی

371 کے ایوان میں وزیراعلیٰ منتخب ہونے کیلئے 186 ووٹ درکار تھے تا ہم اگر پانچ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنے کے بعد ایوان 351 کا تصور کیا جائے تو اس حساب سے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کیلئے 176 ووٹ چاہیے ہوں گے۔، ن لیگ کے پا س اتحادیوں کو ملا کر ووٹ پورے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں ہے

عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم