جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا

0
13

جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے دی انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(آئی وی آر آئی) نے گائے کے پیشاب کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دے دیا ہے-

باغی ٹی وی: ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IVRI)، بریلی کے محققین نے ایک مطالعہ شائع کیا ہے جس میں حتمی شواہد ظاہر کیے گئے ہیں کہ گائے کے پیشاب میں ممکنہ طور پر نقصان دہ بیکٹیریا ہو سکتے ہیں-

سری لنکا چین کو ایک لاکھ بندر فروخت کرے گا

اس تحقیق کے دوران گائے، بھینس اور انسان کے پیشاب کے 73 نمونے حاصل کیے گئے۔ ان نمونوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا پر تحقیق کی گئی جن میں سے 14 ایسی اقسام پائی گئیں جو انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مائکروبائیولوجسٹ بھوج راج سنگھ اور تین پی ایچ ڈی طلبا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق ان پیشاب کے نمونوں میں کسی قسم کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی نہیں جاتیں۔ گائے کا تازہ پیشاب کسی بھی صورت میں انسان کے استعمال کے لیے موزوں نہیں ہے۔

پلوامہ کا ڈرامہ ،مودی نے فوجی خود مروائے،حقیقت سامنے آ گئی

ایک سینئر کنسلٹنٹ، کریٹیکل کیئر میڈیسن ڈاکٹر سمیت رے نے وضاحت کی کہ سائنسی طور پر، گائے کا گوبر اور گائے کا پیشاب جانوروں کے جسم سے خارج ہوتا ہے، جسے باہر پھینکا جاتا ہے ایسا کوئی سائنسی مطالعہ یا ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ گائے کے پیشاب یا گائےکےگوبر میں جراثیم کش خصوصیات ہیں یہ ہمیں کورونا وائرس سمیت کسی بھی انفیکشن میں فائدہ نہیں دے گا اس طرح کے تبصرے صرف پھیلائی جانے والی غیر سائنسی اور غیر معقول معلومات میں اضافہ کرتے ہیں! ”

واضح رہے کہ بھارت میں گائے کو مذہبی طور پر مقدس مانا جاتا ہے اور اس کا پیشاب پاک سمجھ کر پیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں مذکورہ بالا ادارے کے سابق ڈائریکٹر آر ایس چوہان نے دعویٰ کیا تھا کہ کشید کیے جانے کے بعد گائے کا پیشاب انسانوں میں قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض اور کرونا وائرس کے خلاف بھی مددگار ہے۔

چینی کمپنی کی طالبان کو لیتھیم کے ذخائر تک رسائی کے لیے 10 ارب ڈالر …

میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں برس جنوری میں بھارتی ریاست گجرات کے ضلع ٹپی کے ایک سیشن جج نے کہا تھا کہ گائے کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس کا پیشاب بہت سے لاعلاج امراض کا علاج کرسکتا ہے اور گائے کا گوبر تابکاری کو روکتا ہے۔

ٹوئٹر پر امراضِ جگر کے ڈاکٹر اور سائنس دان ایبی فلپس نے، جو سوشل میڈیا ویب سائٹ پر دی لیور ڈاکٹر کے نام سے لکھتے ہیں، ایک ٹوئٹ میں کہا کہ جہاں ڈاکٹروں کی قلیل تنخواہ اور موذی بیماریوں جیسے مسائل درپیش ہیں، وہیں بھارتی ادارہ ایسے موضوع پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کر رہا ہے اب بھی ایسا لگتا ہے کہ تحقیق کے مصنفین ان نتائج سے خوش نہیں ہیں اور وہ کشید کیے ہوئے گائے کے پیشاب پر مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کی فضائی کمپنی نے سوڈان کیلئے تمام پروازیں معطل کر دیں

Leave a reply