‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

0
186

چائے کا کپ ہاتھ میں لئے جب میں چھت پے بیٹھ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سورج کیوں غروب ہو رہا ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ کل جب نیا دن نکلے گا تو کیا وہ وہی اداسی لے کر آئے گا جو پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر کر چکی ہے ؟
میری بات کا شاید کوئی مطلب نہ سمجھ پایا ہو، تو چلو میں سمجھا دیتا ہوں.

ہم روز کئی حادثات دیکھتے ہیں اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ہر روز نئی سے نئی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ آج فلاں مر گیا.
کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ دکھ وہ تکلیف جو دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں خدانحواستہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتی ہے, کیونکہ مرنا تو ہر کسی نے ہے.موت تو برحق ہے تو پھر کیوں نہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی سمجھیں تاکہ معاشرے میں احساس باقی رہ سکے.
پہلے ادوار کے معاشرے اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کے مطابق چلتے تھے .لیکن آج کل کا معاشرہ صرف سوشل میڈیا کے مطابق چلتا ہے.
پہلے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے اللہ سے ڈرتے تھے, لیکن آج کل کے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں.

کچھ چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت ناپید ہو چکی ہیں جیسا کہ احساس، برداشت، عزت, صبر، اتفاق اور اخترام اور بہت کچھ.
سوچتا ہوں معاشرہ کس ڈگر چل پڑا ہے ؟لوگوں نے جانا کہاں ہے ؟لوگوں کی منزل کہاں ہے ؟
تو جواب خاضر ہے قبر, ہاں قبر ہی ہم سب کی منزل ہے. اور موت ہی اس معاشرے کی حقیقت ہے.
اگر انسان بچ کر نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا کیونکہ یہی ہمارے دروازے کا دکھ ہے. اور اس دکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا.
افسوس کہ آج چائے پھر ٹھنڈی ہو گئی اور سورج پھر پوری طاقت کے ساتھ غروب ہو گیا ,اور سورج نے پھر مجھے موت کے سامنے مات دے دی.

‎@U4_Umer_

Leave a reply