18 دسمبر 1987 آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو صاحبہ کی شادی کا دن۔

0
73

آصف علی زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو کی منگنی 29جولائی 1987ء کو لندن میں ہوئی، اس خبر کی دنیا کے تقریباً تمام ہی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر تشہیر ہوئی۔
نیوز ویک، ٹائم میگزین، گارڈین، واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی، امریکن ٹیلی ویژن جیسے سب ہی اداروں نے اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لیا، آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کا رشتہ آصف زرداری کی والدہ ٹمی بخاری اور بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو نے طے کیا۔

منگنی کی تقریب لندن میں بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو کے فلیٹ میں ہوئی، منگنی کے تقریباً پانچ ماہ بعد 18دسمبر 1987ءکو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی یادگار شادی کراچی میں ہوئی، نکاح اور شادی کا عوامی استقبالیہ لیاری کے ککری گراؤنڈ میں ہوا جہاں دولہا دلہن کے قریبی رشتے داروں کے علاوہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

دلہن بینظیر بھٹو نے سونے کی کڑھائی والا سفید رنگ کا جوڑا پہنا جبکہ آصف زرداری نے کریم کلر کا کرتا شلوار اور سر پر روایتی بلوچی پگڑی پہنی تھی۔آصف زرداری نے بینظیر بھٹو کو دل کے نشان والی انگوٹھی تحفے میں دی تھی۔

جب بینظیر بھٹو کی شادی کی تاریخ طے ہوئی تو نصرت بھٹو کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردئیے گئے۔ اس وقت نصرت بھٹو نے جنرل ضیاءالحق سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے کہنے پر جنرل ضیاءالحق سے فون پر بات کرائی گئی تو نصرت بھٹو نے انتہائی حوصلہ اور شاندار لہجے میں بات کرتے ہوئے جنرل ضیاء سے کہا کہ ”بیٹیاں سب کی برابر ہوتی ہیں، میری بیٹی کی شادی پر تم نے جو تحفہ بھیجا ہے وہ مجھے مل گیا“ اس کے بعد انہوں نے فون بند کردیا…

Leave a reply