لال قلعے سے ترنگا اتر گیا سکھوں نے بڑا کام کردکھایا
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، دہلی میں سکھ مظاہرین نے لا قلعہ دہلی پر خالصتان لہرا دیا. دہلی پولیس کے طے کئے گئے راستہ کی بجائے بڑی تعداد میں مظاہرین کسان دوسرے راستہ سے دہلی میں داخل ہوئے اور لال قلعہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہاں سینکڑوں کسانوں نے نے اپنے ہاتھوں میں اپنی تنظیم کے جھنڈے تھامے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کسان نے آگے بڑھتے ہوئے لال قلعہ پر لگے کھمبے پر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔
سکھوں نے دہلی کے لال قلعے پر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔#RSSRepublicDay pic.twitter.com/S24rTmzSdf
— Amir Dhillon (@Im_amir03) January 26, 2021
بھارتی ثقافت کے علمبردار لال قلعہ کو بند کردیا گیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
دوسری جانب مظاہرے میں شریک سکھ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ہم يہ دعوے سے کہتے ہيں کہ يہ پريڈ دنيا کے سليبس کا حصہ بنے گی۔
نوجوانوں کا کہنا ہے کہ 3لاکھ مظاہرین دہلی کے باہر موجود ہیں، کاشتکاروں نے 2لاکھ ٹریکٹروں کا رخ دہلی کی جانب ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ پر دہلی میں 100کلو ميٹر لمبی ٹريکٹر پريڈ ہوگی۔ رياستی سرحدوں پر کاشتکار جہاں جہاں بيٹھے ہيں۔ وہيں پر 100کلو ميٹر تک مارچ کريں گے۔
کسان رہنماؤں کا کہنا ہے بھارتی پولیس اور انتظامیہ نے پہلے ہی سيکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ تین ماہ سے بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری ہےجبکہ حکومت سے مذاکرات کے کئی دور ناکام ہوچکے ہیں۔
سنگھو سرحد پر جاری کسانوں کے دھرنے کے اکثر شرکا پنجاب اور ہریانہ سے آئے ہیں اور وہ سکھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ انہیں دراصل نئی دہلی جانا تھا اور وہاں تاریخی ’رام لیلا میدان‘ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا تھا لیکن سکیورٹی فورسز کے روکے جانے کے بعد وہ یہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔
یہ احتجاج کوئی اکیلی تحریک نہیں ہے۔ 26 نومبر 2020 کو اڑھائی کروڑ افراد نے 24 گھنٹے کی عام ہڑتال بھی کی جو ستمبر میں ملک کی پارلیمان کی جانب سے منظور کیے جانے والے نئے زرعی قوانین کے خلاف تھی۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے منظور کردہ تین متنازع زرعی قوانین کی واپسی، اناج منڈیوں کو ختم نہ کرنے، اناج کی کم سے کم سپورٹ پرائس یا ایم ایس پی کو برقرار رکھنے اور کسانوں کے قرضے معاف کرے۔