fbpx

مورال بلند،فوج اپنا کام کر رہی ہے،پاکستان نے ذمہ دار رياست ہونے کا ثبوت دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مورال بلند،فوج اپنا کام کر رہی ہے،پاکستان نے ذمہ دار رياست ہونے کا ثبوت دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ملکی مجموعی صورتحال پر سب کو آگاہی دینا چاہتے ہیں

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ رواں سال کورونا،معیشت اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا رہا گزشتہ دس سال پاکستان کے لیے چیلنجنگ تھے،چیلنجزکے باجود متحد ہوکرمشکلات کا مقابلہ کیا،ہمیں بھارتی اشتعال انگیزیوں کا سامنا ہے ،دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کیے گئے،پاکستانی عوام نے متحد ہو کر دہشتگردی کا مقابلہ کیا،خطرات اندرونی ہویا بیرونی ہمیشہ حقائق کے ذریعے نشاندہی کی اورمقابلہ بھی کیا،

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ کرونا نے پاکستان کی فوڈ اکانومی کو خطرے میں ڈال دیا تھا، پچھلی دہائی میں ایل او سی پر بھارت اور دوسری جانب کالعدم دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے، افواج پاکستان، عوام نے مقابلہ کیا ،اللہ نے ہمیں سرخرو کیا،ایک جانب بھارت کی ایل او سی پر خلاف ورزی جاری ہے،مشرقی سرحد پر کالعدم تنظیموں کی کاروائیوں کا سامنا تھا، بھارت کی خلاف ورزیوں کا بھر پور جواب دیا

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کے نتیجے میں سیکورٹی کی‌صورتحال اچھی ہوئی، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ہم نے حقائق کے ساتھ نشاندہی کی اور دنیا بھی اب اسکو مان رہی ہے،خود کش حملوں پر قابو پایا گیا کراچی میں اغوا برائے تاوان میں 98 فیصد کمی آئی،

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ 18 ہزارسے زائد دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا،70سےزائد ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کی گئیں ،2019 کے مقابلے میں 2020 میں دہشتگردی کے واقعات میں 45 فیصد کمی آئی ملک میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معاشی سرگرمیوں کو بحال کر دیا گیا ،بھارت کے خلاف ای یوڈس انفارمیشن لیب کے ذریعے شواہد سامنے آچکے،پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں،فیک این جی او ز کے ذریعے پاکستان کے خلاف سیمنارز کیے گئے،

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن رد الفساد کے تحت 3 لاکھ 70 ہزار خفیہ آپریشن کیے گئے،پاک ایران سرحد پٌر 37 فیصد کام ہو چکا ہے ،کے پی اور بلوچستان خاص کر دہشت گردی کا شکار رہے، امن و امان تباہ کرنے کے منصوبے پاک فوج ناکام بنا رہی ہے، سیکورٹی ادارے متحرک ہیں ،آج پاکستان میں کوئی بھی آرگنائزڈ دہشت گرد انفرااسٹرکچر موجود نہیں، آپریشن ردالفساد کےتحت پچھلے3سال میں 3لاکھ 71ہزار آپریشن کئے گئے اور اس دوران غیرقانونی اسلحہ بارودکابڑی حدتک خاتمہ کیا گیا۔ آج تمام قبائلی علاقے کے پی کا حصہ بن چکے ہیں، 2019کےمقابلے 2020میں دہشت گرد واقعات میں 45 فیصد کمی آئی ، سیکیورٹی اداروں نے 50فیصد سے زائد دہشتگردی کےواقعات ناکام بنائے، 2013 میں کرائم انڈیکس میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا اور 2020میں کرائم انڈیکس میں پاکستان کا نمر103ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ میں پاکستان کے میڈیا کا بھی شکر گزار ہوں، میڈیا نے وبا کے دوران مفادات سے بالا تر ہو کر کام کیا، جس ذمہ داری کے ساتھ بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، اسکے لئے پاکستانی میڈیا مبارکباد کا مستحق ہے، دشمن قوتیں متحرک ہیں، انکی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،31 ارب روپے کی خطیر رقم سے سابقہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبے بھی جاری ہیں.

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر کےمحاذ پراپنی جارحیت کو چھپایا ،بھارت نے اقلیتوں کےحوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا،پاکستان نے ہمیشہ ذمے دار ریاست کا ثبوت دیا ہے،بلوچستان میں 199 پروجیکٹس کا آغازکیا گیا ہے،آج الحمداللہ قبائلی علاقے خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں،ت

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف اس ہفتے کوئٹہ کا دورہ کریں گے ،فوج اپنا کام جاری رکھے گی،قربانیاں دے رہی ہے،فوج کا جو کام ہے وہ اپنا کام کرے گی،فوج کا مورال الحمدللہ بھر پور طریقے سے بلند ہے ،بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے،فوج کے خلاف الزامات میں حقیقت پرردعمل دیا جاتا ہے،الزامات لگانے والوں کی باتوں میں اگر کوئی حقیقت ہوتو جواب دیا جائے ،

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد پر باڑحکومت کی درخواست پر لگایا گیا،پاکستان اور افغانستان سرحد پر باڑ لگانے میں بھی ہم نے قربانیاں دی ہیں،امریکہ سمیت تمام ممالک سے پاکستان کےاچھے تعلقات ہیں،لانگ مارچ کے راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی،مولانا فضل الرحمان راولپنڈی آنا چاہے تو ہم چاہے پلائیں گے،