ڈیرہ غازیخان :ماں نے 3 بچوں پر چھری چلادی،باپ 3 بچوں سمیت دریائے سندھ میں کودگیا

ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)آج ڈیرہ غازیخان میں دل کو دہلادینے والے واقعات سامنے آئے ہیں

پہلا واقعہ تین مرلہ سکیم نزد ماڈل ٹاؤن میں رونماہوا جہاں ماں نے اپنے تین پچوں کو چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا۔ بچوں کی گردن اور پیٹ پر چھریوں کے وار کئے گئے ،بچوں کو شدید زخمی حالت میں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے ٹراماسنٹروارڈ میں علاج کیلئے داخل کردیا گیا ہے

تین بچوں کو چھریوں کے وار سے زخمی کرنے کے معاملے کا ڈی پی او سید علی نے نوٹس لے لیا ہے،تھانہ سول لائن پولیس نے بروقت پہنچ کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے،

بچوں کے والد معین اختر کے مطابق اس کی بیوی جو دماغی مریضہ ہے نے اپنے بچوں دین محمد، شاہ ویز اور شاہ زین کو چھریوں کے وار سے زخمی کیا۔ایس پی انوسٹی گیشن بختیار احمد خان نے زخمیوں کی عیادت کی۔ایس پی انوسٹی گیشن اور ایس ایچ او نے موقع کا وزٹ کیا۔

دوسرا اندوہناک واقعہ تھانہ دراہمہ کی حدود پل غازیگھاٹ پر رونما ہوا،جہاں سنگدل باپ نے اپنے 3 بچوں کو پل کے اوپر سے دریائے سندھ میں پھینک دیا اور خود بھی چھلانگ دی ،

اسی اثنا میں ایک مسافر نے قریب موجود پٹرولنگ پولیس کو اس کی اطلاع دی ،ُپٹرولنگ پولیس کے جوانوں نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر فوری موقع پر پہنچے اور قریب موجود ملاحوں سے مدد طلب کی

پٹرولنگ پولیس کے جوانوں نے مقامی ملاحوں کی مدد سے بروقت ریسکیو اپریشن کرتے ہوئے دریائے سندھ کی بے رحم تیز موجوں میں چھلانگیں دیں اور 3معصوم بچوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب ہوگئے ،بچوں کے سنگدل والد کو دریا سے زندہ نکال کرقانونی کارروائی کیلئےاپنی تحویل میں لے لیا.

بچوں کی والدہ کا کہنا ہے کہ آج صبح میرے شوہر نے مجھ سے پیسے مانگے کہ جوتے خریدنےہیں اور بچوں کو جوس بھی پلانا ہے ،میراخاوند مجھ سے پیسے لئے اور بچوں کو جوس پلانے کیلئے موٹرسائیکل پر لے گیا،

بچوں کی والدہ کاکہنا ہے کہ آج میرے چھوٹے بھائی کی شادی ہے ،میں ادھر مصروف تھی اس دوران ہمسائیوں نے بتایا کہ میرے خاوند نے بچوں کو دریا میں پھنک دیا ہے ،بچوں کودریا میں پھینکنے والا سنگدل باپ تنویرنامی شخص چوک چورہٹہ کارہائشی ہے قصبہ سمینہ میں اپنے سالے کی شادی میں شرکت کیلئے آیا ہوا تھا.

یہ میری اور میرے بچوں کی خوش قسمتی ہے کہ پٹرولنگ پولیس رند اڈہ کے جوان موقع پرموجود تھے جنہوں نے مقامی ملاحوں کی مدد سے میرے بچوں کی جان بچائی ہے،خاتون کا کہنا تھاکہ میرا خاوند دماغی مریض ہے جس کاعلاج چل رہا ہے

دوسری طرف ایس پی پٹرولنگ پولیس نے اپنے جوانوں کی لازوال کارکردگی کوسراہا اور بچوں کو تحائف دیکر والدہ کے حوالے کیا.

دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے دونوں واقعات میں ملوث کرداروں کو دماغی مریض بتایا جارہا ہے ،سنگدلی میں ملوث دونوں کرداروں کی اعلیٰ پیمانےکی تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں.

Leave a reply