پارلیمنٹ کی بحث کہ محلے کی لڑائی – – – فرحان رضا

ایک صاحب نے واقعہ سنایا کہ ان کےمحلے میں دو گھروں میں برسوں سے لڑائی چلی آرہی تھی۔ ان میں سے ایک صاحب کے گرد عموما کم عقل اور بھانڈ ٹائپ کے لوگ زیادہ موجود ہوتے تھے ایک دن دونوں گھروں میں تصادم ہوا اور وہ صاحب جن کے گرد کم عقل اور بھانڈ مزاج لوگ زیادہ تھے وہ زخمی ہوگئے ان کےلڑکے نے ان صاحب کے دوستوں کو بلایا کہ ابا کو ہسپتال لےکر چلیں اور پڑوسیوں کو ذرا رعب میں لائیں لیکن ہوا یہ کہ ان کے دوستوں نے آتے ہی پہلےتو ان صاحب کو دس سنائیں پھر ایکدوسرے کو سنانا شروع کردیں کہ تونےکچھ نہ کیا اوئے تو نے کچھ نہ کیا اور بات گالم گلوچ تک چلی گئی آخر کر لڑکا خود ہی ابا کو ہسپتال لےکر گیا دوسری طرف پڑوسی ہنستے رہے
یہ واقعہ آج اس وقت یاد آیا جب میں قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔ اپوزیشن کو دیکھو تو لگتا تھا کہ لاٹری نکل آئی ہے خان کو رگڑنے کی۔اپوزیشن کے تقریباً ہر شخص کی تقریر دیکھیں تو لگتا تھا کہ اسمبلی میں مودی کے گُن گانے کے لیئے آئے ہیں نہ کہ آئندہ کی حکمت عملی پر بات کرنے۔ صرف آصف زرداری نے اٹھ کر ایک تجویز دی جو کہ سب سے مثبت تقریر تھی۔ رضا ربانی اس موقع پر پھر روایتی بیانیہ سول ملٹری تعلقات کو لےکر بات کرنےلگے اور اس حد تک چلے گئےکہ پاکستان کو امریکا کی کلائنٹ اسٹیٹ نہ بننے دیئے جانے کا مطالبہ کردیا شاید وہ بھول گئے تھے کہ کیری لوگر بل کے ذریعہ کلائنٹ اسٹیٹ کا متبرک رتبہ انہی کی جماعت کی حکومت نے بڑی محنت سے حاصل کیا تھا۔ جو ختم ہونے میں بڑا عرصہ لگا
پھر مشاہد اللہ کی تقریر جسے سن کر لگتا تھا کہ موصوف شاید ن لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے آئے ہیں کیونکہ اصل ن لیگ کے جلسوں میں آج کل شعلہ بیانی کا موقع کم ملتا ہے۔
سب سے دلچسپ صورتحال اس وقت تھی جب اپوزیشن لیڈر نے بڑی دھواں دھار تقریر کی لیکن حل کوئی نہ دیا تو وزیراعظم نے پوچھا کیا بھارت پر حملہ کردوں آپ کہیں توکردیتاہوں تو فوری طور پر اٹھ کر کہا میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ شاید انہیں جندال یاد آگیا ہوگا۔ سوال پھر وزیراعظم کا وہی تھا کہ پھر آپ بتائیں کیا کروں تو جواب کوئی نہ تھا۔ اور جب اپوزیشن کو لگاکہ جواب کوئی نہیں ہے تو پھر ہر تقریر کا رخ صرف تنقید کی طرف موڑ دیا گیا۔
ایک طرف یہ حال ہے پاکستان کی اسمبلی کا تو دوسری طرف بھارت کی اسمبلی میں اختلاف ہےلیکن ہرگروپ ایک تجویز لےکر آیا ہے اور اس کے حق میں دلائل دے رہا ہے مودی کے حامی ایکطرف اور کانگریس اور اتحادی دوسری طرف ہیں دلائل سے موجودہ حالات اور آئندہ کی حکمت عملی اور منظر نامے پر بات ہورہی ہے۔ کانگریس کی قیادت نے اس فیصلے کو بھارتی آئین پر حملہ کہا اور ان شقوں کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ دوسری طرف بی جےپی کے وزرا نے اس
واپس آجائیں ہماری پارلیمنٹ کی طرف تو بات شروع ہوتی ہے مودی نے یہ کیا وہ کےا اور پھر ایکدم بات ہمارا لیڈر جیل میں کی طرف چلی جاتی ہے اور آخر میں تو بات یو شٹ اپ یو شٹ اپ تک بھی چلی گئی۔
ان تقاریر کو دیکھ کر یقینی طور پر نوجوانوں کو ایک بات ہی سمجھ میں آئی ہوگی کہ اسمبلی میں سنجیدہ، تحقیق اور مضبوط دلائل سے بات نہیں ہوسکتی یہ ارکان اسمبلی یقینی طور پر فی الحال کوئی راستہ بتانے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ انہیں تو ایکدوسرے کو کوسنے اور پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں ہے
ان کے رویوں سے کشمیریوں اور پوری دنیا پر واضع ہوگیا کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ان کے لیئے اپنے اختلافات نہیں بھلا سکتے اور یہ ایک مشترکہ بیانیہ لانےکےبھی قابل نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ مشکل کا حل بتانے کے بجائےایک دوسرے کو برا بھلا ہی کہہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف کشمیریوں نےدیکھاکہ پاکستان کی فوجی قیادت نے چند لمحوں میں ہی واضع موقف بدیدیا تھا کہ کشمیر کےلیئے ہر سطح تک جاسکتے ہیں۔
جب قومی اسمبلی کے مبینہ طور پر معزز ارکان کی کم عقلی کا ایک بار مظاہرہ ہوچکا تو اب سوال یہ ہےکہ کیا انہیں عوام کا نمائندہ کہلائےجانے کا حق حاصل ہے۔ کیا یہ لوگ ذہنی سطح پر اس قابل ہیں کہ ملک کے حساس معاملے پر ان سے مشورہ لیا جائے؟
ان ارکان اسمبلی کے غیر سنجیدہ اور ذاتی مفادات پر مبنی رویوں نے یقینی طور پر آج پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے اپنی قابلیت پر ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کشمیر پر قرارداد تو منظور ہوگئی لیکن جوان ارکان اسمبلی نے تماشا لگایا وہ بھی تاریخ میں ان کےناموں کے ساتھ محفوظ ہوگئی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.