fbpx

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ڈاکٹریٹ پڑھانے والے خود پی ایچ ڈی نہیں۔یہ کیسا کھلا تضاد ہے

کراچی: اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ڈاکٹریٹ پڑھانے والے خود پی ایچ ڈی نہیں۔یہ کیسا کھلا تضاد ہے،اطلاعات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی جس میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) پڑھانے والے خود پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ مختلف یونیورسٹیز خصوصاََ جامعہ کراچی کے اسکول آف لاءمیں پی ایچ ڈی کلاسز کو پڑھانے کے لیے پی ایچ ڈی اساتذہ دستیاب ہی نہیں۔سندھ ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ہائر ایجوکیشن نے جواب جمع کرا دیا،سندھ ہائی کورٹ نے جواب کی نقول فریقین کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی ہے۔درخواست گزارنے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ایچ ڈی کے طلباء کو پڑھانے کے لئے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہونا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2012 میں فیصلہ دیا تھا، اس لیے لاء میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کے لئے فیکلٹی پی ایچ ڈی ہونا لازمی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف میں کہا کہ کراچی یونیورسٹی نے کسی بھی طالبِ علم کو پی ایچ ڈی میں داخلہ نہیں دیا۔ پولیس افسران اور ایف آئی اے افسران کو داخلے دے دئیے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.