fbpx

ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

سابق وفاقی سیکرٹری، معروف کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر صفدر محمود کئی ماہ سے علیل تھے اور اس دوران امریکہ میں زیرعلاج رہے جسکے بعد وہ وطن واپس آئے اور اپنے آخری ایام میں ان کی یاداشت چلی گئی تھی، ڈاکٹر صاحب 30 دسمبر 1944 کو ضلع گجرات ڈنگہ میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا کچھ عرصہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد 1967ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1974ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ مرحوم کی تصانیف میں "سچ تو یہ ہے، مسلم لیگ کا دور حکومت، پاکستان کیوں ٹوٹا، پاکستان:تاریخ و سیاست، درد آگہی اور سدابہار” شامل ہیں۔  ڈاکٹر صفدر محمود کو انکی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ایک العربیہ اردو کی تحریر میں لکھتے ہیں کہ: "استاد ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ پیری اور ’’ملّائی‘‘ کی بجائے سیاست کو عیاری کہتے۔ علامہ اقبال کے دور میں شاید سیاست اتنی عیار نہیں ہوتی تھی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے قومی رہنما قائد اعظم اور نہرو دونوں اصولی،قومی اورنظریاتی سیاست کے نمائندے اور ترجمان تھے۔ سیاست میں عیاری قیام پاکستان کے بعد آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری طرح چھا گئی۔ کم و بیش یہی حال ہندوستان میں بھی ہوا لیکن ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں لوٹ مار کا غدر قدرے زیادہ مچا کیونکہ مسلمانوں کے معدے وسیع، ہاضمے مضبوط اور شان و شوکت کا شوق تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔”

ڈاکٹر صاحب روزنامہ جنگ کے آخری کالم جن کا عنوان ہے "بندگی اور بے بندگی” میں لکھتے ہیں کہ: "مرض اور قرض اچانک حملہ آور ہوتے ہیں لیکن جاتے جاتے وقت لیتے ہیں۔ اللہ پاک کا کرم ہے، اُس کی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں کہ شاید شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زندگی بھر مالی قرض سے خاصی حد تک محفوظ رکھا لیکن جہاں تک دوستوں، بہی خواہوں کی محبتوں کے قرض کا تعلق ہے وہ ادا نہیں ہو سکتا۔ محبتوں کے قرض سے کہیں زیادہ اہم اور وزنی قرض احسانات کا ہوتا ہے کیونکہ میرا تجربہ ہے جو شخص آپ پر احسان کرتا ہے آپ اُس کا قرض کسی صورت بھی نہیں چکا سکتے چاہے آپ جواباً اُس پر درجنوں احسانات کریں۔ احسان صرف وہی شخص کرتا ہے جو بھلائی، نیکی، مدد، خدمت میں یقین رکھتا ہو اور اپنی ذات سے اور اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو۔ میں نے زندگی کے سفر میں کئی ایسے لوگ دیکھے جو کسی مصیبت زدہ کو مشکل سے نکال کر احسان کا ثواب کما سکتے تھے لیکن وہ اپنے مفادات، جمع، تفریق اور سود و زیاں کی پیچیدگیوں میں اُلجھ کر کنارہ کش ہو گئے۔ مطلب یہ کہ جو انسان ہمیشہ اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہو اور اپنے مفادات کو ہر شے پر ترجیح دیتا ہو، وہ کسی پر احسان کرنے کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ احسان کرنے کی صلاحیت اُنہیں ملتی ہے جن کے ظرف اور قلب وسیع ہوتے ہیں، جن میں ایثار کا جذبہ ہوتا ہے اور جو دوسرے انسانوں کو نہ صرف اہمیت دیتے ہیں بلکہ اُن کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ میں نے زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے جو دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات پر فوقیت دیتے تھے لیکن زندگی کے طویل سفر میں اپنی ذات کی نفی کرنے والے فقط چند حضرات ملے جنہیں میں صحیح معنوں میں اللہ کا دوست سمجھتا ہوں کیونکہ اپنی ذات کی نفی اللہ سے دوستی کئے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ یہ بلند رتبہ صرف اُنہیں ملتا ہے جو اِس کے مستحق ہوتے ہیں۔”

مورخ ڈاکٹر صفدر محمود 13 ستمبر 2021 کو بقصائے الہی تقریبا 77 سال کی عمر میں خالق حقیقی کو جا ملے اس حوالے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ رحیلہ قاضی نے لکھا:” ‏ڈاکٹر صفدر محمود تحریک پاکستان کے ایسے نادر تاریخ دان جو صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کے محافظ تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔ اللہ ان سے راضی ہوجاۓ۔

ایک ٹوئیٹر صارف محمد طاہر لکھتے ہیں  کہ:

ڈاکٹر صفدر محمود کا انتقال نظریاتی جہتوں سے مطالعہ پاکستان کے شوقین حضرات کے لیے انتہائی افسوس ناک خبر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کی تاریخ و سیاست کے حوالے سے قابل ذکر کام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے۔

معروف صحافی انصار عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‏نظریہ پاکستان کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ایک بااثر آواز محترم صفدر محمود انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالی اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی اسلام اور اسلامی پاکستان کے لیے کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

لکھاری نجمہ منصور ڈاکٹر صاحب کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: "میری کتاب "رشحات قائد” کا دیباچہ انہوں نے لکھا تھا، بہت نستعلیق شخصیت کے مالک اور مستند تاریخ دان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)

پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم ڈاکٹر صفدر محمود کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: "ڈاکٹر صفدر محمود نے مختلف میدان ہائے علم اور شعبہ صحافت میں نہایت بلند پایہ خدمات سر انجام دیں۔ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”

یقینا ڈاکٹر صاحب ایک عظیم تاریخ دان تھے ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کے چلے جانے کا خلا کبھی پر نہیں ہوتا لیکن آئیندہ نسل کیلئے ایسے منصف کی تحاریر، تصانیف اور تحقیق ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہ جاتی ہے لہذا نوجوان نسل کو چاہئے کے انہیں پڑھیں اور پھر اپنی تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر اختلاف یا اتفاق کا اظہار کریں کیونکہ ہم سب کو حق ہے کہ علم کی بناء پر شائستہ طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی یہی خوبی تھی کہ وہ اگر کسی سے اختلاف رائے کا اظہار بھی کرتے تھے تو ان میں بے انتہاء حد تک شائستگی ہوتی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ اہل علم  لوگوں کا بحث مباحثہ یا اختلاف رائے رکھنا بھی نئے علوم کے دریچے کھولتا ہے۔