ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا قومی زرعی تحقیقاتی کونسل اسلام آباد کا دورہ اہم پروگرامز کا جائزہ لیا
جہاں ان کا ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، اسلام آباد اور دیگر عہدیداران نے ان کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نیہ کا اینیمل سائنسز انسٹی ٹیوٹ، نگاب اور لائیواسٹاک ریسرچ اسٹیشن اور دہی کے پیداواری یونٹ کا بھی معائنہ کیا۔
انہوں نے دہی کے پیداواری پلانٹ پر کام کرنے والی خواتین کی تعریف کی. ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے این اے آرسی کے ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا دورہ بھی کیا .جہاں انہوں نے موسمی سبزیوں کی ہائبرڈ اقسام کا جائزہ لیا
چیئر مین پی اے آر سی نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کی جانب سے متعارف کی جانے والی لہسن کی نئی قسم NARC G-1 کے بارے آگاہ کیا.چیئرمین پی اے آر سی نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کے بارے میں تفصیلات بتائیں
ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماریوں سے پاک کیلے کی پیداوار کی جارہی ہے۔ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماریوں سے پاک آلو کی پیداوار بھی جا رہی ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی برائے وزیر اعظم پاکستان نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں دیسی کھادیں تیار کرنے والے پلانٹ کا افتتاح بھی کیا .ڈاکٹر ثانیہ انگورا ریبٹ (Angora Rabbit) کامعائنہ بھی کیا۔
ڈاکٹر عظیم خان نے بتایا کہ انگورا ریبٹ سے حاصل ہونے والی اون انتہائی قیمتی ہے.انگورا ریبٹ ذریعہ معاش کا بہترین ذریعہ ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا مچھلیوں کے افزائش کے منصوبے کا جائزہ لیا اور کہا کہ پی اے آر سی کے سائنسدان ملک کی قیمتی سرمایہ ہیں۔








