fbpx

دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ بچی دعا زہرہ اس کا کیس عجیب نوعیت کا کیس ہے، کافی روز سے چپ ہوں اور کام کر رہا ہوں، میرا تعلق لاہور سے ہے اور یہ سب کراچی میں ہو رہا ہے

مبشر لقمان یو ٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کیا ہو رہا ہے، مختلف چیزیں ہیں اور ایک چیز لنک ہے جس کے بارے میں لوگوں کو بہت خدشہ ہے، جب اتنے لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے تو اسکو کہتے ہیں زبان خلق نقارہ خدا ، یعنی کچھ نہ کچھ تو ہو رہا ہے ،کہیں نہ کہیں شعلہ تو ہے اگر دھواں اٹھ رہا ہے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا خیال ہے اس بچی کو اسکی مرضی کے خلاف اغوا کیا گیا اور اسکی زبردستی شادی کروائی گئی، یہ سولہ سال کی ہے یہ سترہ سال کی، یہ عمر کچی ہوتی ہے بچوں کی ، لڑکا ہو یا لڑکی اور انکو بہلانا انتہائی آسان ہے، عدالت کے پاس کیس گیا تو عدالت نے بچی کا بیان دیکھا، بچی نے کہا میں ماں باپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، پاکستان کے اندر ایک پریشر ہے کہ لڑکیوں کو آزادی ہونی چاہئے اور این جی اوز اس حوالہ سے کام کر رہی ہیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں وومین رائٹس کے تحت پروٹیکشن ہو رہی ہے یا کسی کرمنل کے تحت، بچی کے عمر کے تعین کے لئے میڈیکل بورڈ بنایا گیا ، اس نے کہا کہ بچی کی عمر 17 سال ہے،پاکستان پینل کوڈ 16 سال کی عمر کو اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتا ہے، عدالت کے پاس یہ معاملہ تھا، میڈیکل رپورٹ کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا کہ بچی کی اپنی مرضی ہو گی تب تک کے لئے اسے دارالامان بھیج دیا گیا،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ والدین کا کہنا ہے کہ یہ دعا چودہ سال کی ہے ہماری شادی کو ہی پندرہ سولہ سال ہو ئے تو بچی کیسے سترہ سال کی ہو گئی، ہم نے کئی شہروں میں قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کراچی، لاہور مین کیس دیکھے، اگر آپ نے خدانخواستہ پندرہ سولہ سال کی بچی کو اغوا کر لیا اور اسکے بعد اسکو کمپرومائیز کروا لیا، کوئی ویڈیو یا تصویر بنا لی، یا ڈرا دھمکا دیا کہ تمہارے کسی رشتے دار کو گولی مار دیں گے، بچوں کا مائینڈ خوفزدہ ہو جاتا ہے، کراچی میں کافی لوگوں کا خیال ہے کہ آرگنائزڈ کرائم ہو رہا ہے جس میں ایسے بچوں کو ڈھونڈا جاتا ہے جن کا خاندان وکیلوں ، عدالتوں،میڈیکل بورڈ کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے ان بچیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ، جیسے ہمارے دیہات میں ہوتا ہے کہ کسی بچی کو کسی وڈیرے نے اغوا کر لیا، وہ حاملہ ہو گئی تو پھر پتہ چلتا ہے کہ اسکی شادی ہو گئی، نکاح نامہ سامنے لے آیا جاتا ہے، اس کیس میں اہم چیز ہے کہ ایک کرمنل انویسٹی گیشن ہو، وہ عدالت حکم نہیں دے سکتی، اب اسکے والدین کہیں گے کہ اس فرانزک پر ہمیں اعتبار نہیں ،یہ باہر سے بیرون ملک سے کروائیں، وہاں ایک ڈی این اے ہوتا ہے، پھر عمر کا تعین ہو گا اور پھر فیصلہ ہو گا ، لیکن اگر والدین ایسا نہیں کر سکتے تو پھر صبر شکر کر کے بیٹھنا پڑے گا پھر ڈارک ویب یا اور کوئی کہانیان سامنے آتی ہیں،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش، نیپال اور بہار سے ہزاروں بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے سالانہ اور پھر انکی سیل کی جاتی ہے،سب سے آسان کام یہ ہے کہ پہلے نکاح نامہ بنا لیتے ہیں پھر اسکے بعد دو چار لوگوں کو حصہ دار بنانا ہے وہ متعلقہ کسی محکمے سے ہوں ، کیس میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ کیس جائز ہوتے ہوئے بھی حل نہیں ہوتے، عدالت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں، جو شواہد عدالت کو ملتے ہیں عدالت اسی پر فیصلہ کرتی ہے،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامک کورٹ میں اس کی عمر اسے بھی کم ہو سکتی ہے،سولہ سال عمر ثابت ہونے پر نکاح خواں پر بھی کچھ نہیں ہو سکتا، سوچنا یہ ہے کہ کہیں آرگنائزڈ کرائم تو نہیں ہو رہا؟ بچی کی شادی ہو جاتی ہے، رشتہ مل جاتا ہے،میاں کے ساتھ خوش بھی ہے،اس پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ سوسائٹی میں کیا ہو رہا ہے،وقت آ گیا ہے کہ دعا زہرہ کے کیس کے بارے میں سول سوسائٹی کہے کہ اس کا فرانزک باہر سے ہونا چاہئے اور ہم اسکا خرچہ برداشت کرنے کو تیار ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ اسکی عمر سولہ سال سے کم ہے پھراس کی عمر کا سرٹفکیٹ بنانے سے لے کر کیس کے تمام آفیشیل جو کیس پر اثر انداز ہوئے سب کو اندر ہونا چاہئے، اغوا کاروں کو بھی سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے، دعا زہرہ کیس اتنا سادہ کیس نہیں