دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

0
54

پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب دینی مدارس ہیں جس میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یتیم، مسکین اور غریب طلباء ہیں جو مدارس میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں یعنی ان کے چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی گزرتے ہیں۔ کئی کئی سالوں کی تعلیم کے بعد جب طالب علم باہر نکلتے ہیں تو بڑی مشکل سے انھیں کوئی نوکری ملتی ہے۔

مل بھی جائے تو زیادہ تر کیسز میں کسی مسجد کے خادم، مؤذن، امام مسجد یا پھر کسی مدرس میں قاری ، عالم وغیرہ کے طور پر ہوتی ہے۔ اس میں تنخواہ بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے جو کے سات سے پندرہ ہزار تک ہوتی ہے۔ یعنی اتنے سال مدرسے میں لگانے کے باوجود جیسے غریب مسکین پہلے ہوتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔

دینی تعلیم کوئی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی دوسری تعلیم یا ہنر کے لیے کچھ وقت نہ نکالا جا سکے۔

مدارس اگر دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کسی ہنر کے سکھانے کے لیے مختص کر دیں یا پھر ہفتے میں کوئی ایک دن اس کام کے لیے مختص کر دیں تو یہی طالب علم کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی بھی کما سکیں گے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثریت امامت وغیرہ کے فرائض مفت میں ہی انجام دینے کو راضی ہوجائے گی۔

پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ابھی انھیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بات مسجد کمیٹی کو بری نہ لگ جائے اس لیے بہت سے موضوعات پر بالکل ہی خاموش رہتے ہیں جس پر جمعہ کے خطبے میں بات کرنی چاہیے، جب یہ مسجد کے تنخواہ دار نہیں ہونگے تو بلاجھجھک حق بات کہہ سکیں گے۔

کورسزاور سکلز میں آنلائن سکلز بھی ہوسکتی ہیں جس میں بنیادی انگریزی تعلیم کے ساتھ آنلائن قرآن کی تعلیم تاکہ باہر سے زرمبادلہ پاکستان لا سکیں۔ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ باہر کے کسی ملک میں پڑھا کر امام مسجد کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔
ایسے ہی باقی بھی بہت سی آنلائن سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، ٹائپنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، وغیرہ جیسی کئی ہیں۔

آنلائن کے علاوہ کئی آف لائن کام بھی سکھائے جاسکتے ہیں جیسے درزی، پلمبر، الیکٹریشن، اے سی سروس، واشنگ مشین سروس، گیس کا کام، فریجوں کا کام، گاڑیوں کا میکنک ، یو پی ایس ٹھیک کرنے والے، وغیرہ وغیرہ جیسی بڑی لمبی لسٹ ہے۔

امام مسجد کے لیے فجر کی نماز سے ظہر کی نماز تک کم سے کم بھی چھ سے سات گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ باقی وقت نہ بھی دے ، صرف اسی میں کام کر لے تو اچھی خاص کمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر باہر پڑھانا ہے تو اس وقت سو لیا جائے اور رات کو عشاء سے فجر کے درمیان بھی کئی گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے۔

کوئی رول ماڈل مدرسہ اس طرز پر شروع ہونا چاہیے تاکہ وہاں سے صرف عالم دین نہ نکلیں بلکہ اچھے ٹیکنیشن بھی ہوں ۔ یہ لوگ اپنے بہترین طرز عمل سے اسلام کے بہترین داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ روزی روٹی کے ساتھ مختلف لوگوں کو دینی مسائل کے بارے بتانا اور دین کی تبلیغ بھی زیادہ لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا بلکہ دنیا میں رہ کر دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو دنیا والے آپ کی دین سے متعلق بات بھی غور سے سنتے ہیں۔

اگر کوئی ایسا مدرسہ آپ کی نظر میں ہے تو اس کا بتائیں تاکہ لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجیں اور اگر کوئی نہیں ہے تو کوئی ایسا دوست ہے جو اس کی بنیاد رکھ سکے؟

Leave a reply