fbpx

الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ سے حاصل کئے گئے تحائف ظاہرنہ کرنے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن استعفے منظور نہیں کررہا۔ دکھا دیں اگر سابق ڈپٹی اسپیکر نے کوئی استعفیٰ بھیجا ہو۔ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عمران خان رکن اسمبلی نہیں ہیں اس لئے انہیں نوٹس جاری نہیں ہوسکتا۔کوئی رکن اسمبلی استعفے کا اعلان کرکے ایوان میں نہ جائے تو استعفیٰ منظور تصور ہوتا ہے۔اسپیکر کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس 24 اگست کو مقرر ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر گوہر خان سے کہا کہ کمیشن میں قانونی بات کریں باقی گفتگو ٹی وی پر کیا کریں۔ استعفیٰ منظورکرنے کے حوالے سے بیانات بھی نہ دیا کریں۔

الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ یہ ریفرنس رواں ماہ الیکشن کمیشن پہنچا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے آج سماعت کے لیے مختص کیا تھا۔

توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔

ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور ڈیپینڈینٹس کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔
دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران خان نے ‘جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔‘

دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔
ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔