fbpx

‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی تحریر : سیف الرحمان

آج کل الیکٹرانک مشین کو لے سارے ملک میں  کافی بحث مباحثہ شروع ہے۔ اس بحث میں بیک وقت پانچ فریق حصہ لے رہے ہیں۔ سب کے سب اپنی اپنی رائے اور تحزیے دیتے نظر  آ رہے ہیں۔ یہ پانچ فریق مندرجہ ذیل ہیں۔ 

1-حکومت

2- اپوزیشن

3-میڈیا

4-الیکشن کمیشن

5-عام عوام

حکومت وزیر اعظم کے ویثرن نیوٹرل ایمپائر /فری اینڈ فیئر الیکشن کے خواب کی تعبیر کیلئے جہدو جد کرتی نظر آ رہی ہے۔

اپوزیشن حسب روایت حکومتی کام میں روڑے اٹکاتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ بظاہر دھاندلی سے پاک الیکشن جو کافی سارے لوگوں کیلئے باعث فکر اور پریشانی بن سکتی نظر آتی ہے۔

میڈیا اس بحث میں دونوں فریقوں کی رائے لیتا نظر آ رہا ہے کچھ دانشوروں کے تجزے بھی الیکشن ریفارمز میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔

عام عوام الیکشن ریفارمز کیلئے خوش اور جذباتی نظر آر  ہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین آ جائے تو ہم بھی جدید دور میں نا صرف قدم رکھ سکتے ہیں بلکہ دھاندلی جیسی الزام تراشی سے بھی بچت ہو جائے گی۔ 

الیکشن کمیشن کا کردار الیکٹرانک مشین کو لے کر روز اول سے مشکوک نظر آ رہا ہے۔  سن٢٠١١سے لے کر ٢٠٢١تک الیکشن کمیشن نے الیکشن ریفارمز پر ایک ٹکے کا کام نہیں کیا۔ اب جب حکومت نے الیکٹرانک مشین بنا ہی لی تو سب سے ذیادہ اور سرعام مخالفت بھی الیکشن کمیشن نے ہی کی ہے۔

اب اصل میچ تین فریقوں کے مابین پڑنے والاہے۔ حکومت, الیکشن کمیشن اور اپوزیشن۔  پہلی باری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونی چاہئے تھی لیکن الیکشن کمیشن نے خود فرنٹ سے لیڈر کرنے اور حکومتی ریفارمز کیخلاف پنجہ آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے  بیک فٹ پر جا کر الیکشن کمیشن کو سپوٹ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ الیکشن کمیشن نے  گزشتہ ہفتہ حکومتی ٹیم سے ملاقات میں الیکٹرانک مشین کو لے کر 37اعتراضات اٹھائے ۔ ان اعتراضات پہ اگر غور کریں تو ایسا لگ رہا ہے  کہ یہ اعتراضات الیکشن کمیشن کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کے بندے نے اٹھائے ہیں۔  آئے پہلے آپ کو ایک ایک کر کے اعتراضات بتاتے ہیں۔ 

الیکشن کمیشن کے اعتراضات:

 وقت بہت کم ہے 

الیکشن کمیشن نے حکومت کی رائے لیئے بغیر ہی فیصلہ کر دیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم چھ ماہ میں مطلوبہ تعدار میں مشینیں بنا کر دے سکتے ہیں۔ مطلب بنانے والا کہہ رہا کہ بنا دوں گا لیکن الیکشن کمیشن کہتا ہے نہیں رہنے دیں 

  الیکٹرانک ووٹنک مشین پہ راز داری نہیں رہے گی

حقیقت یہ ہے کہ  جب الیکٹرانک مشین سےرسید باہر نکلتی ہے تو اس پہ  صرف بار کوڈ درج ہوتا ہے۔ اس  میں نہ ووٹر کا نام ہے نہ اس کے خاندان کا نام ہے نہ ہی اس کا ایڈریس اور نہ ہی شناختی کارڈ نمبر درج ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ووٹر کی راز داری ظاہر ہوتی ہے غلط بات ہے

ای وی ایم سے ووٹر کی شناخت گمنام نہیں رہے گی

جیسے کہ پہلے بتاچکا ہوں کہ ای وی ایم  رسیدپہ صرف ٹائم تاریخ اور بار کوڈ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔  بار کوٹ صرف الیکشن کمیشن ہی ٹریس کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بندہ نہیں کر سکتا۔

مشین کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا نہیں جا سکتا

بندہ پوچھے آپ نے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھ کر کیا کرنا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا ہے؟

ووٹوں کی جمع تفریق کرتے وقت کلکولیٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کبھی چیک کیا ہے؟

ای وی ایم کا کم از کم ایک سو پچاس ارب خرچہ آئے گا

کیا الیکشن کے اخراجات چیف الیکشن کمیشن صاحب کو  اپنی جیب سے ادا کرنے تھے؟

کیا اس سے پہلے جتنے الیکشن ہوئے وہ فری میں ہوتے آ رہے ہیں؟

  الیکشن کی شفافیت  اور ساکھ مشکوک رہے گی

اب بندہ پوچھے کہ اس سے پہلے ایسا کون سا الیکشن ہے جو مشکوک نہیں رہا؟

الیکشن کمیشن اپنی تاریخ کا کوئی ایک عدد الیکشن بتا دے جو مکمل فری اینڈ فیئر کروایا ہوجس پہ کسی نے اعتراض نا کیا ہو۔

  الیکٹرانک مشین کس کی تحویل میں رہے گی

اس سے پہلے الیکشن بیلٹ کس کی تحویل میں رہتے تھے؟

ظاہر ہے ای وی ایم بھی الیکشن کمیشن کی تحویل میں ہی رہے گی۔ 

ویئر ہاؤس اور ٹرانسپوٹیشن میں  مشینوں کے سافٹ ویئر تبدیل کئے جا سکتے ہیں

یہ منطق سمجھ سے باہر ہے۔ ویئر ہاؤس الیکشن کمیشن کا تحویل بھی الیکشن کمیشن کی پھر تبدیل کون اور کیسے کرے گا۔ مطلب الیکشن کمیشن اتنا نااہل اور نالائق ہے جو الیکٹرانک مشین کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔ 

 بلیک بکس کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے

یہاں الیکشن کمیشن کو مشین کے رنگ پہ اعتراض ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کا ڈبہ جس میں مشین پیک ہو گی مشکوک ہے۔ مطلب چیف الیکشن کمیشن صاحب کو کالا رنگ ہی پسند نہیں۔ 

 ہر جگہ مشین کی صلاحیت پہ سوالات اٹھ سکتے ہیں

یہاں الیکشن کمیشن مشین بغیر بجلی استعمال پہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکومت نے گارنٹی دی ہے کہ یہ مشین  بغیر بجلی بیٹری پر ایک لمبے بیک اپ کیساتھ K2 پہ بھی چلے گی اوربحر  الکاہل کے اندر سب سے نچلی سطح پر بھی کام کرے گی۔ لیکن الیکشن کمیشن کی مرضی جب انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں چلنی تو سمجھو نہیں چلنی۔

مشین کی منتقلی اور حفاظت

سر پہلے جو بندے بیلٹ پیپر کی منتقلی اور حفاظت کرتے تھے یقین مانیں وہی بندے الیکٹرانک مشینوں کی حفاظت بھی کر لیں گے۔ کسی اضافی برگیڈ یا پولیس نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

  ای وی ایم سے شفاف الیکشن ممکن نہیں ہے

اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی شفاف الیکشن ممکن نہیں ہیں تو پھر کیا بندہ الیکشن کمیشن کو تالا لگا دے۔ بہرحال یہ اعتراض بھی سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے

سافٹ ویئر   باآسانی ٹمپر اور بدلہ  جا سکتا ہے

سیل بند مشین کو کھولنا ہی نا ممکن ہے اگر کھل گئی تو فورا پتا چل جائے گا۔ کیونکہ اس مشین کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی آپشن ہی ختم کر دی گئی۔ اگر کوئی یہ حرکت کرنا بھی چاہے گا تو کھلی مشین سے فورا پتا چل جائے گا

الیکٹرانک مشین فراڈ نہیں روک سکتی

الیکشن کمیشن کے اس اعتراض کے بعد ایک عد ہنسی تو بنتی ہے۔ بندہ پوچھے مشین فراڈ کیسے روکے گی۔ فراڈ تو الیکشن کمیشن کے بندوں نے روکنا ہے۔ مشین نے صرف اور صرف شفاف  بیلٹنگ کروانی ہے۔ ایک شناختی کارڈ پہ صرف ایک ووٹ۔  کسی مردے کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا۔ کوئی ڈبل ووٹ نہیں دے پائے گا۔ کوئی ٹھپہ نہیں لگے گا۔ 

  مشین کی آذادی پہ سوال ہوں گے

مجھے تو مشین کی آذادی پہ سوال سے مراد شاہد مشین  کی بغیر چائے پانی اور بریک کے اپنی ووٹنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سمجھ آئی ہے۔ 

  مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے

کوئی صاحب عقل یہ بتا دے کلکولیٹر کو کیسے ہیک کیا جا سکتا ہے؟

الیکٹرانک مشین کی تھیوری بھی کلکولیٹر جیسی ہے نا بلیو ٹوتھ , نا انٹر نیٹ نا ہی کوئی بیرونی ڈیوائس اس کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے ۔

  ای وی ایم کی ایمانداری پہ یقین نہیں کیا جا سکتا

کوئی بندہ الیکشن کمیشن کو بتائے کہ ای وی ایم  ایک مشین ہے  اور اس کو مشین کی طرح ہی دیکھا جائے۔  

اتنی ذیادہ مشینوں سے ایک ہی دن میں انتخاب کرانا ممکن نہیں

اگر مینول کام جلدی جلدی ہوتے ہیں  تو لوگ مشینوں سے کیوں کام لیتے ہیں؟

جو کام پنسل سے  لکھ کر پانچ منٹ میں ہوتا ہے اگر وہی کام صرف ایک بٹن دبانے سے ہو جائے تو ذیادہ بہتر کون ہے۔ مشین یا مینول طریقہ ؟

  ووٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوحی روکاوٹ بننے گی

یہاں الیکشن کمیشن ساری قوم کو ان پڑھ اور جاہل سمجھ رہا ہے۔ اس وقت تقریبا ہر شخص کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ ان موبائلوں میں ایپ دیکھ لیں شاہد اچیف الیکشن کمیشن نے کبھی استعمال نہ کی ہوں جو ان پڑھ لوگ چلارہے ہیں۔

  اسٹیک ہولڈرکا اتفاق نہیں ہے

الیکشن آپ نے کروانے یا اسٹیک ہولڈرز نے۔ 

عوام کا اعتماد نہیں

عوام تو الیکشن کمیشن پہ بھی اعتماد نہیں کرتی۔ پھر کیا کرنا چاہئے؟

ڈیٹا انٹی گریشن اور ویری فیکیشن

کوئی چیف الیکشن کمیشنر صاحب کو بتا دے کہ جو رسید مشین سے نکل کر بیلٹ بکس کی ذینت بنتی ہے اس کو آپ ہر طرح سے تصدیق کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔ بار کوڈ کے اندر سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

  خواتین کے ٹرن آؤٹ کو مشین ذیادہ نہیں کر سکتی

کیا بیلٹ بکس خواتین کو گھروں سے پکڑ پکڑ کر ووٹ ڈالنے لایا کرتے تھے جو الیکٹرانک مشین سے نہیں ہو پائے گا۔ یہ اعتراض بھی بہت عجیب و غریب ہے۔

  مشین نتائج میں تاخیر کا سبب بننے گی

صرف ایک بٹن دبانے کی دیر ہے رزلٹ پرنٹ کی شکل میں باہر نکل آئے گا۔ الیکشن کمیشن کا یہ اعتراض بھی کوئی خاص وزن نہیں رکھتا۔

  میڈیا اور سول سوسائٹی کو بداعتمادی ہو سکتی ہے

مطلب الیکشن کروانے کیلئے میڈیا اور سول سوسائٹی کو راضی رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ایسی سوچ ہے تو کر لئے شفاف الیکشن

   مشینوں کی مرمت الیکشن میں دھاندلی کا باعث بن سکتی ہے

پہلے الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھے کہ سیل بند مشینوں کی مرمت کون کرواتا ہے؟ 

جب حکومت نے کہہ دیا کہ سیل کھول دی تو مشین ضائع تو مرمت کا تو سوال ہی نہیں بنتا۔ خراب مشین تبدیل ہو گی مرمت نہیں ہو گی

  ریاستی اختیارات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

الیکشن کمیشن کو کوئی بتائے الیکشن کے وقت عبوری حکومت ہوگی۔ عبوری حکومت  کا کام الیکشن کرانا ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی خاص اختیارات اس کے پاس نہیں ہوتے

  ووٹ کی خریدو فروخت نہیں رکے گی

مشین  نے ووٹ خریدنے والوں پہ کیس تو کرنے نہیں لہذا یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے۔ خریدو فروخت بیلٹ کے ہوتے ہوئے بھی ہوتی تھی۔

  مشین میں ووٹ کی کوئی سکریسی نہیں ہے

صرف بار کوڈ تاریخ اور وقت کے علاوہ رسید پہ کچھ نہیں ہو گا اور کون سی سکریسی چاہئے؟

الیکشن سے پہلے وقت کی کمی

سر  ابھی دو سال پڑے ہیں چھ ماہ میں مشینیں بن کر آ جائیں گی آپ بس نیت کریں اﷲ آسانیاں فرمائے گا۔

یہ تمام اعتراضات پڑھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اعتراضات کسی الیکشن کمیشن کے بندے نے لگائے ہوں گے؟

یہ سب کے سب اعتراضات سیاسی نوعیت کے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے پچھے کون ہے یہ الگ بحث لیکن اس سے الیکشن کمیشن کی اپنی ساکھ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں لوگ الیکشن کمیشن کو  تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی پارٹی بننے کی بجائے یا سیاسی وابستگی کی بجائے قومی ادارہ بن کر سوچنا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت الیکشن ریفارمز میں سنجیدہ ہو ہی گئی ہے تو برائے مہربانی آپ بھی تعاون کریں اور قومی ادارے کے طور پر بہتری کی معاونت کریں۔

قانون تو پارلیمان نے بنانا ہے اور شاہد ای وی ایم کے تحت الیکشن کرانے کا قانون بن بھی جائے تو اس کے بعد الیکشن کمیشن کدھر جائے گا۔ کیونکہ آئین میں واضع لکھا ہے جو قانون پارلیمان بنا کر دیں الیکشن کمیشن نے اسی کے مطابق الیکشن کروانے ہیں۔ بطوو ادارہ الیکشن کمیشن کوئی قانون نہ تو بنا سکتا ہے اور نہ  ہی بنے قانون کی مخالفت کر سکتا ہے۔

ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے حوالے سے ایسا نظام آئے جس سے ایمانداد اور پڑھے لکھے لوگ ہی اسمبلیوں کا حصہ بنیں۔ ایسا نظام جس میں ٹھپہ راج اور رشوت خوری کے تمام دروازے بند ہو جائیں۔  آمین

‎@saif__says