انتخابات کے انعقاد میں57 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے. آئی جی کے پی

0
33

آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے انتخابات کے دوران دہشت گرد حملوں کا خدشہ ظاہر کردیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے متعلق اجلاس ہوا۔ آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ صوبے میں انتخابات کیلئے 57 ہزاراہلکاروں کی کمی کاسامنا ہے۔ معظم جاہ انصاری نے کہا کہ سال 2022 میں پولیس پر494،رواں سال اب تک 46حملے ہوچکے جبکہ رواں سال اب تک 93پولیس اہلکارشہید ہوچکے ہیں۔ خدشہ ظاہرکیا ہے انتخابات کے دوران مزید حملے بھی ہوسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن اعلامیے کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق انتخابات مکمل پرامن ہونے کا یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن فوج اور ایف سی کیلئے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہے۔ انتخابات کےدوران غیرجانبدارافسران کی تعیناتی ضروری ہے، شفاف انتخابات کیلئے فوری طور پر ضروری تقررو تبادلے کئے جائیں۔

دوسری جانب موجودہ ملکی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایس پی رورل ڈویژن ظفر احمد کی سربراہی میں تھانہ ناصرباغ میں دربار منعقد کیا گیاخصوصی دربار میں ایس ڈی پی اوز ، ایس ایچ اوز ، چوکی انچارجان اور پولیس اہلکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ایس پی رورل ظفر احمد نے دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ پولیس جانثاروں اور دلیروں کی فورس ہے اس فورس کا مورال ہمیشہ بلندرہا ہے

انہوں نے کہا کہ پولیس افسران واہلکاروں نے ملک و قوم اور امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنی جانوں کے نظرانے پیش کئے ہیں جس کی بدولت مثالی پولیس کا درجہ رکھتی ہے، ایس پی رورل نے کہا کہ پولیس جوانوں کے مسائل کے حل کی خاطر تمام دستیاب وسائل کو بروئےکار لایا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جوانوں کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام سمیت مختلف معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں پولیس جوانوں کا کردار قابل صد تحسین ہے

Leave a reply