ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا، انکوائری کمیشن اقامہ رکھنے والوں‌ کی بھی تحقیقات کرے گا. عمران خان

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جارہا ہے یہ اقامہ رکھنے والوں کا حساب بھی کرے گا۔ تحقیقاتی کمیشن جلد قائم کیا جارہا ہے جس کا مقصد 24 ہزار ارب کے قرضوں کا حساب لینا ہے. مشکل فیصلے کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں پارٹی رہنماؤں اور ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، حفیظ شیخ، عمر ایوب، مراد سعید، شبر زیدی، سینیٹر فیصل جاوید، فردوس عاشق اعوان اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کئے جانے کے بعد کی صورتحال، اپوزیشن کی احتجاج سے کس طرح نمٹا جائے گا اور اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاریوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا.

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بجٹ کے بعد کی صورتحال اور اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر اپوزیشن کے احتجاج سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ گرفتار ہونے والے این آر او کی تلاش میں ہیں، تمام ترجمان اور پارٹی رہنما پارلیمنٹ کے اندر و باہر اور میڈیا پر جارحانہ حکمت عملی اختیار کریں اور کہ اپوزیشن کے ہر حملے کا ہر طریقے سے جواب دیں۔

اجلاس میں سیاسی صورتحال پر غور اور قومی اسمبلی میں آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق بھی غوروفکر کیا گیا۔ اس موقع پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بجٹ اور حکومتی اہداف سے متعلق آگاہ کیا. چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ٹیکس اصلاحات اور اہداف سے متعلق اقدامات پر اور جہانگیر ترین نے زراعت پالیسی سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ صورتحال میں پارٹی بیانیے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں‌بنائے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کا مقصد 24 ہزار ارب روپے کے قرضوں کا حساب ہے ، یہ جلد قائم کیا جائے گا، تحقیقاتی کمیشن اقامہ رکھنے والوں کا حساب بھی کرے گا۔ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اب وقت ہے معیشت ٹیک آف کرے گی۔ عوام کو غربت کی لکیر سے اوپر لانا پی ٹی آئی کی اولین ترجیح ہے اسی لیے احساس پروگرام کا بجٹ 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب روپے تک لے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ انکوائری کمیشن کی جانب سے اقامہ سے متعلق تحقیقات کے اعلان پر اپوزیشن جماعتوں میں‌پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.