لاہور سمیت صوبہ بھر میں کوڑا کرکٹ جلانے والوں کے خلاف اب تک کیا کارروائیاں کی گئیں ؟محکمہ بلدیات نے اینٹی سموگ مہم کی رپورٹ جاری کر دی
سیکرٹری بلدیات کے مطابق کوڑا کرکٹ ،فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف بھاری جرمانوں اور مقدموں کا اندراج کیا جا رہا ہے۔ کوڑا کرکٹ ،فصلوں کی باقیات جلانے اور تجاوزات قائم کرنے والے 43 افراد گرفتار کیے گئے کوڑا کرکٹ جلانے والے 211 افراد کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے کوڑا کرکٹ جلانے والے کو اب تک 10لاکھ 84ہزارجرمانہ کیا جا چکا ہے۔ تجاوزات کرنے والوں کو لوکل گورنمنٹس نے ابھی تک 1کروڑ سے زائد جرمانہ کیا ہے۔ فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے لوکل گورنمنٹس 71 ہزار سے زائد پودے لگا چکی ہیں۔ کوڑا کرکٹ کے جلاؤ کو روکنے کے لیے لوکل گورنمنٹس کی جانب سے جامع آگہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے سموگ اور گردو غبار کے تدارک کے لیے واٹر سپرنکلنگ سرگرمیاں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ صوبہ بھر میں تجاوزات کو کم کرکے ٹریفک کی روانی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ریت اور مٹی کی ٹرالیوں کو بغیر ترپال کے روڈ پر لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔صوبہ بھر میں ائیر کوالٹی انڈیکس بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ سموگ کے خاتمے کے لیے عوام الناس سے گزارش ہے کہ لوکل حکومت کے ساتھ تعاون کریں
سموگ کے مکمل خاتمے کیلئے ایل ڈبلیو ایم سی انتظامیہ شہر بھر میں سرگرم.
سی ای او لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی علی عنان قمر کی ہدایات پر کوٹ خواجہ سعید اور شالیمار ٹاؤن میں مکینیکل سکریپنگ کا عمل جاری ہے.#LWMC #lahore #dengue #smog #Pakistan #Punjab #cleanandgreen pic.twitter.com/EOMwX1Llcc
— LWMC1139 (@LWMC1139) November 23, 2022
گزشتہ چند برسوں سے سموگ ہمارے لئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ سارا سال فضا میں اکٹھی ہونے والی آلودگی سردی کے اس موسم میں سموگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے بالخصوص موٹر سائیکل سوار عینک کا سختی سے استعمال یقینی بنائیں، آنکھوں کو مسلنے سے اجتناب برتیں اوررش کے مقامات پر جاتے وقت ماسک پہنیں تاکہ سانس کی وجہ سے فضائی آلودگی اُن کے نظام تنفس کو متاثر نہ کرے۔ شہریوں کو اپنی آنکھو ں کو دھونے کے علاوہ پانی سے غرارے کرنے چاہئیں چونکہ عام طور پر سموگ کے باعث آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن کی شکایت اور سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے سڑکوں پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، رکشوں اور دیگر وہیکل مالکان کا فرض ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال یقینی بنائیں تاکہ اس دھوئیں سے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔ شہری آنکھیں سرخ ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، ٹھنڈے مشروبات اور پینے کے ٹھنڈے پانی سے بھی گریز کریں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟
باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ
پیکا ترمیمی آرڈیننس،لگتا ہے وزیراعظم کی کسی نے ٹھیک سے معاونت نہیں کی،عدالت
دوسری جانب ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ محکمہ نے دھان کے کاشتکاروں کو کٹائی کے بعد باقیات (مڈھوں،پرالی وغیرہ) کو آ گ لگانے سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کیں ہیں۔ترجمان نے کہا ہے کہ دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی (سموگ)پیدا ہوتی ہے۔سموگ کے باعث انسانی زندگی، فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ کاشتکاردھان کی باقیات کو آگ لگانے کی بجائے زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں ۔ترجمان کے مطابق دھان کے کاشتکار ہاتھ سے کٹائی کی صورت میں دھان کے مڈھوں کی تلفی کے لئے روٹاویٹر مشین استعمال کریں مزید براں کاشتکار دھان کی مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے انہیں زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریافی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ دھان کی باقیات کی آگ لگانا ایک غیر قانونی عمل ہےاور ایسے کاشتکاروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سموگ کے تدارک کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا پوچھ لیا؟
مغل پورہ کی طرف جائیں آسمان کا رنگ ہی بدل جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ