فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین

فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں: طبی ماہرین 
بیماری کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپرواہی، بلند فشار خون، تمباکو نوشی، امراض قلب اور ذیابیطس وغیرہ شامل 
نوجوان نسل اور خواتین میں مرض کی شرح بلند ، متحرک زندگی گزار کر فالج کے امکانات کم کریں
 
 علاج میں تاخیر پر بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہےتفصیلات کے مطابق  
پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے پاکستان میں فالج کے مرض میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طب سے وابستہ افراد کو اس بیماری کی علامات، بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے آگاہی کیلئے مہم چلانا ہو گی کیونکہ دنیا بھر سالانہ میں 10لاکھ افراد الکوحل کے استعمال اور نشہ آور اشیاء کے باعث فالج کا شکار ہو جاتے ہیں

جن سے اجتناب برتنا ضروری ہے جبکہ نیورو ریڈیالوجست جنرل ہسپتال ڈاکٹر عمیر رشید چوہدری و دیگر طبی ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتر نگہداشت اور مریض کے لئے اہل خانہ کی جانب سے خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی فالج کے مرض میں مریض کی جلد صحت یابی کے لئے نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فالج کا حملہ اُس وقت شدید ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی کوئی شریان بلاک ہو جائے یا پھٹ جائے
۔ایسی صورتحال میں فالج موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر عمیر رشید نے انکشاف کیا کہ فضائی آلودگی اور دیگر عوامل کی وجہ سے روزانہ 70افراد فالج میں مبتلا ہو رہے ہیں بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین میں مرض کی شرح بلند ہے،متحرک زندگی گزار کر فالج کے امکانات کم کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر ہاشم،پروفیسر آصف بشیر،پروفیسر انور چوہدری، ڈاکٹر طارق میاں، ڈاکٹر صائمہ، ڈاکٹر سہیل اختر، ڈاکٹر حسنین ہاشم اور ڈاکٹر حسیب منظور و دیگر بھی موجود تھے۔ 

پروفیسر الفرید ظفر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ فالج کی بیماری دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ تسلیم کی جاتی ہے جس کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، کھانے پینے میں لاپرواہی، بلند فشار خون، تمباکو نوشی، امراض قلب اور ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاج میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی بولنے میں مشکلات، یاداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جائے گا جبکہ معاشی و سماجی مسائل، طبقاتی کشمکش، لوگوں میں ڈپریشن،احساس محرومی اور دیگر نفسیاتی عوامل فالج میں اضافے کا باعث ہیں جس کے نتیجے میں برین ہیمرج کے کیسز عام ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب فالج قابل علاج مرض ہے، ادویات بھی باآسانی دستیاب ہیں اور اس بیماری سے متاثرہ افراد جلد سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بر وقت تشخیص اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جائے۔ طبی ماہرین نے سادہ غذا،پھل اور سبزیوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ فاسٹ فوڈ سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرزاق، ڈاکٹر شہزاد کریم، ڈاکٹر علی رزاق سمیت نوجوان ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.