گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

0
191
shehbaz

گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو نگران حکومت میں گندم کی درآمد کی ہر لحاظ سے مکمل شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا،وزیراعظم شہباز شریف نے دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کو سامنے رکھ کر سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ،وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو پیر تک حتمی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت بھی کی ،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجھے ذمہ داروں کا واضح تعین کرکے بتایا جائے کوئی لگی لپٹی مت رکھیں۔

سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں دوسری انکوائری کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ کمیٹی آج چھٹی کے باوجود بھی پہلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی۔

گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

قبل ازیں گندم بحران کو لے کر مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی اور سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک دوسرےپر الزامات کی بھر مار کر دی،دونوں کے درمیان گندم اسکینڈل پر تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ایک نجی ہوٹل میں ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔انوارالحق کاکڑ نے حنیف عباسی سے کہا کہ گندم معاملے پر آپ نے ہم پر انگلی اٹھائی ہے کیا گرفتار کرنے آئے ہیں؟ جس پر حنیف عباسی نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں آپ چور ہو اور گندم اسکینڈل میں پیسےکھائےہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ میں نے پروگرام میں جو بھی گفتگو کی وہ بالکل درست تھی۔ جواب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ فارم 47 پر بات کی تو آپ اور ن لیگ کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملےگی۔

دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

تحریک انصاف کے رہنما عون عباسی کا کہنا ہے کہ جب نگران حکومت نے گندم امپورٹ کی اجازت دی تب حکومت کے پاس 48، پرائیوٹ سیکٹر کے پاس 65 لاکھ ٹن گندم موجود تھی، 22 اکتوبر 2023 کو گندم امپورٹ کی اجازت ملی، 1 نومبر کو پہلا، 5 نومبر کو دوسرا اور تیسرا جہاز کراچی پہنچ گیا جبکہ یوکرین سے گندم امپورٹ میں 25 دن لگتے ہیں۔ جب پرائیوٹ سیکٹر کی یوکرین سے گندم 2900 میں آئی تب پنجاب حکومت نے اپنی گندم 4600 سے کم میں بیچنے سے انکار کر دیا اور پھر کسی ایک شخص کی 2900 میں آئی گندم 4 ہزار سے 4200 میں مارکیٹ میں بکی، اسکے علاوہ مارچ، اپریل 2024 میں بھی 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوئی ہے۔ نگران اور پی ڈی ایم حکومتوں نے systematically کسان کو تباہ حال کیا ہے۔ ن لیگ کی حکومت سوائےاپنے منظور نظروں کے کسی کو باردانہ تک نہیں دے رہی۔ نگران سیٹ اپ اور بالخصوص موجودہ حکومت گندم کے بحران کے ذمےداران ہیں،

Leave a reply