fbpx

آٹو اسمبلرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا

حکومت اس وقت ملک میں سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کی کوششیں کررہی ہے جبکہ آٹو اسمبلرز گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اس صورتحال سے پوری طرح فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔

ڈان کے مطابق: انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) اب ایسی تیسری کمپنی بن گئی ہے جس نے روپے کی قدر میں کمی، خام مال کی قیمتوں میں اضافے، نقل و حمل کی لاگت اور کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) سمیت دیگر ٹیکس اور ڈیوٹیوں بڑھنے کا حوالہ دیتے ہوئے صارفین کو گاڑیوں کے مختلف ماڈلز میں 5 لاکھ 90 ہزار سے 30 لاکھ 16 ہزار روپے اضافے کا بڑا جھٹکا دیا۔

لیٹر آف کریڈٹس (ایل سیز) کھولنے پر پابندی، غیر مستحکم شرح تبادلہ اور گاڑیوں کی بروقت فراہمی میں ناکامی کے سبب گاڑیوں کی تیاری کے لیے درکار پرزوں کی کمی کی وجہ سے 18 مئی سے گاڑیوں کی بکنگ پہلے ہی معطل کر دی گئی ہے، کمپنی نے بتایا کہ نیا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک آڈر لینے کا سلسلہ معطل رہے گا۔

اطلاعات تھیں کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ایل سیز پر موجود شرائط کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا لیکن آٹو اسمبلرز کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اب بھی موجود ہے اور اسٹیٹ بینک اسمبلنگ کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے پرزوں اور کٹس کی درآمد کا مخصوص کوٹہ جاری کر رہا ہے۔

کرولا 1.6 ایم ٹی، اے ٹی اور اے ٹی اپ اسپیک ماڈلز کی نئی قیمت بالترتیب 48 لاکھ 99 ہزار روپے، 51 لاکھ 39 ہزار روپے اور 56 لاکھ 39 ہزار روپے ہے جبکہ سی وی ٹی 1.8، سی وی ٹی ایس آر اور سی وی ٹی ایس آر بلیک ماڈلز کی نئی قیمت بالترتیب 66 لاکھ 79 ہزار روپے، 61 لاکھ 49 ہزار روپے اور 61 لاکھ 89 ہزار روپے ہوگی۔

یارس 13 ایم ٹی، سی وی ٹی، ایچ ایم ٹی اور ایچ سی وی ٹی کی نئی قیمتیں 37 لاکھ 99 ہزار روپے، 40 لاکھ 39 ہزار روپے، 39 لاکھ 99 ہزار روپے اور 42 لاکھ 9 ہزار روپے ہیں، یارس 1.5 ایم ٹی اور 1.5 سی وی ٹی کی قیمت 43 لاکھ 9 ہزار اور 45 لاکھ 69 ہزار ہوگی، ریوو، جی ایم ٹی، جی اے ٹی، وی اے ٹی اور وی اے ٹی روکو کی قیمت بالترتیب 98 لاکھ 19 ہزار، ایک کروڑ 3 لاکھ، ایک کروڑ 13 لاکھ اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ہوگی۔

فارچیونر ایل او پیٹرول، ہائی پیٹرول، ڈیزل اور ڈیزل لیجینڈر کے نئے نرخ بالترتیب ایک کروڑ 25 لاکھ روپے، ایک کروڑ 43 لاکھ روپے، ایک کروڑ 51 لاکھ روپے اور ایک کروڑ 58 لاکھ روپے ہیں۔

آئی ایم سی نے اپنے ڈیلرز کو بتایا کہ یہ قیمتیں خالصتاً علامتی اور عارضی ہیں جو تبدیل ہو سکتی ہیں لہذا انہیں حتمی نہیں سمجھا جائے۔

آٹو ذرائع نے بتایا کہ ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے اپنے ڈیلرز کو ہونڈا سٹی، سوک اور بی آر-وی کی قیمتوں میں 30 جولائی سے 7 لاکھ 85 ہزار سے 14 لاکھ 50 ہزار روپے تک ممکنہ اضافہ لاگو ہونے کے بارے میں مطلع کیا ہے۔

’آئی ایم سی‘ اور ’ایچ اے سی ایل‘ سے پہلے ’کیا لکی موٹر کارپوریشن‘ پہلی اور ’ہنڈائے نشاط موٹرز‘ دوسری کمپنی تھی جس نے شرح مبادلہ اور بھاری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے اثرات کو صارفین تک منتقل کیا اور قیمتوں میں 11 لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا۔
موٹرسائیکلیں مزید مہنگی

این جی آٹو انڈسٹریز نے اپنے ڈیلرز کو خام مال کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور یوٹیلیٹی چارجز کی وجہ سے 5 اگست سے لاگو ہونے والے سپر پاور موٹر سائیکل کے 70 سی سی سے 250 سی سی ماڈلز کی قیمتوں میں 5 ہزار سے 20 ہزار روپے کے اضافے کے بارے میں مطلع کیا۔

کمپنی نے 27 جولائی سے سپر پاور 100 سی سی موٹر سائیکل کی قیمت میں بھی 5 ہزار روپے کا اضافہ کردیا۔

ڈی ایس موٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 5 اگست سے 70 سی سی سے 100 سی سی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں 5 ہزار روپے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔