امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مشترکہ مفادات کونسل میں 2017 کی مردم شماری کو غلط قرار دینے کے ساتھ ہی اسے منظور کرنے اور 2023 میں نئی مردم شماری کے اعلان پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز لیگ کے دور میں ہونے والی متنازع مردم شماری کی منظوری کراچی کی آدھی آبادی کومکمل طور پر غائب کرنا ہے ۔ جب اس مردم شماری پر پی ٹی آئی ، ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی سمیت سب کو تحفظات ہیں تو اسے منظور کرنے کا کیا جواز ہے ۔ اس مردم شماری کو مسترد کیا جانا چاہیے ۔ غلط مردم شماری ایک قومی جرم ہے اس کے ذمہ داران کا تعین کر کے اس قومی جرم پر ان کی گرفت کی جانی چاہیئے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسے حساس نوعیت کے معاملات میں کسی سازش کاموقع نہ مل سکے ۔ نئی مردم شماری میں دھاندلی روکنے اور جعل سازی کرنے کی روک تھام کے اقدامات پر پوری قوم کو اعتماد میں لیا جانا ناگزیر ہے ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 70 سال سے کراچی کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ کراچی کے ساتھ ناانصافی کے عمل میں ایم کیو ایم کو پوری طرح استعمال کیا جارہا ہے اور ایم کیو ایم نے کراچی کے حقوق کے لیے باتیں تو بہت کیں مگر اہل کراچی کے لئے عملاً کچھ نہیں کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان بھی کراچی کے لیے اپنے تمام وعدے بھول چکے ہیں ۔ اگلی مردم شماری سے قبل ہی موجودہ مردم شماری کی منظوری پہلے قدم پر ہی اہل کراچی کے ساتھ ناانصافی اور حق تلفی کی بنیاد رکھنا ہے ،جب تک کراچی کے عوام کو درست شمار نہیں کیا جائے گا اس وقت تک کراچی کو قومی و صوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم میں اُس کا جائز اور قانونی حق نہیں مل سکتا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے انہیں ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ اہل کراچی کے ساتھ ظلم و ناانصافی اور حق تلفی کے خاتمے تک جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک جاری رہے گی ۔

Shares: