غیر ملکی فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا،الیکشن ایکٹ

0
27

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق فیصلہ آج سنائے گا۔تاہم فارن فنڈنگ کیس کے فیصلہ تین ججمنٹس کی بنیاد پر ہو سکتاہے، جن میں پہلے نمبر پر بھاعت اور اسرائیل وغیرہ کے افراد اور کمپینیوں کی جانب سے کی گئی غیر قانونی فنڈنگ کی تفصیلات.نبر2، الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر قانونی اور ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے فائیندنگز جبکہ تیسرے نمبر پر وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق ایکشن بھی لے سکتی ہے.

الیکشن ایکٹ کے مطابق غیر ملکی فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا، اس کے تمام عطیات ضبط ہو جائیں گے، وفاقی حکومت کے ڈکلیئریشن اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی تحلیل ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتوں سے بھی باقی مدت کے لیے نا اہل ہو جائے گی۔

سیاسی جماعتوں کی تشکیل سے متعلق الیکشن ایکٹ کا سیکشن 200 کہتا ہے کہ سیاسی جماعت غیر ملکی امداد سے نہ تشکیل پائے گی، نہ ہی منظم ہو گی۔ سیکشن 2004 کے مطابق سیاسی جماعت کو براہ راست یا بالواسطہ کسی غیر ملکی ذرائع سے عطیہ لینا منع ہو گا۔

ان میں غیر ملکی حکومت ، ملٹی نیشل کمپنی، فرم، تجارتی یا پیشہ ور ایسوسی ایشن یا افراد شامل ہیں، الیکشن ایکٹ کے مطابق ممنوعہ ذرائع سے ملنے والے عطیات حکومت ضبط کر لے گی، یہ عطیات کیش، اسٹاک، ٹرانسپورٹ، فیول یا دیگر سہولیات کی مد میں ہوسکتے ہیں۔غیر ملکی ذرائع میں ایسے سمندر پار پاکستانی شامل نہیں جو نادرا کا جاری کردہ نائیکوپ کارڈ رکھتے ہوں۔

سیکشن 212 کے مطابق اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس یا کسی اور ذرائع سے حاصل معلومات سے وفاقی حکومت مطمئن ہو کہ کسی سیاسی جماعت کو غیر ملکی فنڈنگ حاصل ہے تو وہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اس کا ڈکلیئریشن کرے گی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان کی خود مختاری یا سالمیت یا امن و عامہ کے برخلاف تشکیل دی گئی ہو تو وفاقی حکومت آرٹیکل 17 کے تحت ڈیکلیریشن کے15 دن کے اندر معاملہ سپریم کورٹ بھیجے گی اور عدالت عظمیٰ کا ایسے ریفرنس پر فیصلہ حتمی ہوگا، اگر فیصلہ خلاف آیا تو سیاسی جماعت تحلیل کر دی جائے۔

سیکشن 213 کے تحت تحلیل ہونے والی سیاسی جماعت اگر پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا حصہ ہو تو وہ باقی مدت کے لیےاس کا حصہ نہیں رہ سکے گی۔

سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ فارن اور ممنوعہ فنڈنگ ایک ہی چیز ہے ، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں فارن فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے، فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجائے گی ، سیکشن 215 کے تحت پارٹی کا نشان بھی واپس لیا جاسکتا ہے، ممنوعہ فنڈنگ پر پارٹی کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جاسکتی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا تھا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے بطور چیئرمین لکھ کر الیکشن کمیشن کو دیا ہے کہ ان کی پارٹی میں کوئی ممنوعہ فنڈنگ نہیں ہے، اگر فنڈنگ ثابت ہوتی ہے تو عمران خان کے خلاف غلط بیانی پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔

Leave a reply