حکومتی اتحادی جماعت کی ایک بار پھر "علیحدگی” کی دھمکی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہم حکومتی اتحادی جماعت بی این پی نے ایک بار پھر وفاقی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا
باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی اہم اتحادی جماعت حکومتی رویے سے نالاں ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ذرائع کے مطابق چھ نکاتی ایجنڈے پر کوئی عملددرآمد نہ ہوسکا،لاپتہ افراد کی بازیابی کے برعکس تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے حکومت ابتک نادرا ایکٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی آرڈننس میں ترامیم نہ کرسکی،
بی این پی ذرائع کے مطابق حکومتی مذکراتی کمیٹی غیر فعال ہوچکی ہے، پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصبوبوں کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، بی این پی ذرائع کا کہنا ہے کہ مفت میں ثواب کے لئے پی ٹی آئی کے حمایتی نہیں بن سکتے
واضح رہے کہ بی این پی کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی یہ پہلی بار سامنے نہیں آئی ماضی میں بھی کئی ایسے مواقع آئے لیکن حکومت نے بی این پی کو راضی کر لیا ،گزشتہ برس بھی بجٹ کے موقع پر بی این پی نے علیحدگی کی دھمکی دی تھی لیکن حکومت نے مذاکرات کئے تھے اور بجٹ کی منظوری کے لئے بی این پی نے حکومت کی حمایت کر دی تھی
بلوچوں کو لاٹھی یا بندوق سے ہانکنے کی کوشش کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے، اختر مینگل
مولانا فضل الرحمان جب حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے اسوقت بھی بی این پی کی جانب سے حکومت سے عیلحدگی کی ایک بار پھر دھمکی دی گئی تھی اور اختر مینگل سے مولانا فضل الرحمان کا رابطہ بھی ہوا تھا، اختر مینگل اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں بھی تھے ،بلاول زرداری سے بھی اختر مینگل کی ملاقات ہوئی تھی،لیکن حکومت نے انہیں منا لیا تھا
حکومتی اتحادی جماعت کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچوں کوان کاحق ملنا چاہیے،کابینہ کے ارکان حکومت سے ناراض ہیں،ہم نے کچھ نکات پرحکومت کا ساتھ دیا،بلوچستان کی محرومیاں دورہونے پرحکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے
اختر مینگل نے مزید کہا کہ سی پیک اتھارٹی کی تشکیل میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا،وزیراعظم عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کرچکے ہیں ،وفاقی حکومت اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لے رہی، بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے شفاف انتخابات ضروری ہیں،
اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو بلوچستان کے 5 ہزار لاپتہ افراد کی فہرست دی تھی،لاپتہ افراد کی دی گئی فہرست کے مطابق ان میں سے 400 کے قریب افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے، میرے سمیت بلوچستان کا کوئی بھی باسی وفاقی حکومت سے مطمئن نہیں
بلوچوں کو لاٹھی یا بندوق سے ہانکنے کی کوشش کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے، اختر مینگل








