fbpx

‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے ہارنے کی وجہ سے دل ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آیا تب سے یہی سوچ رہا ہوں آخر کیا محرکات ہیں جو ہماری کرکٹ اتنی زوال کا شکار ہے
ایک وقت تھا کہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا یہاں کی مٹی کرکٹر اگلتی ہے اس مٹی نے کیسے کیسے ہیرے پیدا کیے عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، عبدالرزاق،
شاہد خان آفریدی، سعید انور، عامر سہیل، عبدالقادر، عاقب جاوہد.
لیکن اب تو لگتا ہے قومی کرکٹ ٹیم کو پسند ناپسند کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے کیسے کیسے ہیرے ضائع کر دیے جیسا کہ عمران نذیر، عبدالرزاق، حسن رضا، محمد آصف، محمد عامر، عمر گل، وہاب ریاض، محمد شبیر، سعید اجمل.
اسی طرح بہت سے کرکٹر سفارش، یا پیسا نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں آ پاتے۔

ایسے ہی ایک کرکٹر عبید اللہ جنکا تعلق پشاور سے اور (پدائش 4 جون 1992) ہیں

انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز اکتوبر 2016 کو قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان ایئر لائنز کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا
انہوں نے 19 نومبر 2017-18 کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور کی طرف سے نمائندگی کی۔ انیس نومبر، 2017 کو راولپنڈی میں کراچی کے مخالف جبکہ پشاور کی نمائندگی کرتے ہوے 72 سکور کیا اور 23 نومبر 2017 کو راولپنڈی میں پشاور کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل آباد کے خلاف سینچری پلس 114 سکور کیا.

سٹرائیک ریٹ 92.30 رہا جبکہ ایوریج 18.00 رہی. اگر پی سی بی نے اس پسند ناپسند کے نظام کو نہ بدلا تو آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حال انگلینڈ کے خلاف سیریز سے بھی برا ہوگا
اس لیے پی سی بی کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کا میرٹ پر انتخاب کریں نہ کہ ذاتی پسند کی بنیاد پر.
سوشل ٹویٹر اکاؤنٹ
‎@ObaidVirk_717