fbpx

ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

افغانستان جو آج کل اخبار کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ایک علم کو اپنے ذرائع سے خبروں کی کھیپ پہنچتی رہتی ہے ۔ تو ایسے میں ہم بھی کان لگا کر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ دیکھیے کون سی خبر ہم تک کیسے پہنچتی ہے ۔افغانستان سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنے کہ ہم خود ۔ ایک تو افغانستان کی اکثریت آبادی مسلم ہے ، دوسرا ہماری ہمسائیگی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے معاملات پر نظر رکھنی پڑتی ہے، تیسرا عالمی طاقتوں کی گزرگاہ ماضی کی طرح آج بھی افغان زمین کو ہی سمجھا جاتا ہے اور چوتھا ہمارا ازلی دشمن بھارت امریکی آشیرباد سے افغانستان میں اپنے خونی پنجے مضبوط کیے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی ہمیں افغانستان کی بدلتی حالت پر نہ صرف نظر رکھنا پڑتی ہے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی جدو جہد بھی کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست کبھی بھی افغانستان میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ادھر جنگ کا مطلب ہے کہ اس کی تپش پاکستان تک پہنچنا ۔ ماضی قریب و بعید میں بھی پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکالنے کا راستہ ملنا پاکستان کی ہی مرہون منت ہے ۔ بھارت نے جہاں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہی پر اس نے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایسے استعمال کیا ہے کہ ایک طرف امریکیوں کی خبریں رکھی ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں دخل اندازی کرکے پاکستان کے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرچکاہے۔

کئی ایک افغانی اس گھناونے کام میں بھارت کے نہ صرف مددگار رہے ہیں بلکہ بھارتی پے رول پر کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امت واحدہ اور انسانیت کے نام پر لاکھوں بلکہ کروڑوں افغانیوں کو پناہ دی اور ان میں سے کچھ نے اپنا دین ، روایات اور اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بھارتی پروپیگنڈے سمیت خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ساتھ دیا ہے ۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ افغان ایجنسی بھی بھارتی ایجنسی کے ساتھ ملکر اپنے بڑے بھائی کے چھرا گھونپ رہی ہے ۔ اخبار کے مطابق طالبان کو افغان چیک پوسٹوں سے 3 ارب روپے کے قریب پاکستانی کرنسی ملی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ چیک پوسٹیں پاکستانی سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز سے چھینی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ تصاویر موجود ہیں جن میں ایک شخص کو پاکستانی روپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ بتائی گئی معلومات کے مطابق یہ رقم افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے کرنل کے کمپاونڈ سے ملی ہے۔ اس کمپاونڈ کے عقب میں ہی قندھار کا بھارتی قونصلیٹ تھا جو تازہ تازہ خالی ہوا تھا ۔ افغان سیکیورٹی فورسز یہ رقم سمگلروں سے بطور رشوت لیتی رہیں اور پھر یہ رقم پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتیں جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں۔

حالیہ خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوے دہشت گردانہ واقعات میں افغانی انٹیلی جنس کا کردار کس قدر اہم رہا ہے ۔ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے والے امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے میں تو نا کام ہو چکے ہیں ۔ آئے روز طالبان کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ فلاں قصبے میں داخل ہوچکے ہیں اور اتنے افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر پناہ مانگی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چند لوگ پاکستانی سرزمین میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ امید ہے کہ جہاں بھارت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان حکومت کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں پر ان بے وقوفوں کو بھی سمجھ آجائے گی کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستان آج بھی کوشش میں ہے کہ افغان عوام کا کم سے کم نقصان ہو کیوں کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم آج بھی انھیں امن و سکون سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ افغانی خفیہ ایجنسی کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں جما رہے بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلاے ۔ بھارت یاد رکھے کہ پاکستانی عوام نہ صرف جاگ رہی ہے بلکہ افغانستان میں ہورہے واقعات پر گہری نظر رکھے معاملات کو سمجھ بھی رہی ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت باز نہیں آتا تو اسے نکیل ڈالنے میں کوئی تردد نہ ہوگا ۔