fbpx

ہوائی جہاز کے ساتھ لٹک کر سفر کرنے کے دوران گر کر مرنے والے شخص کی ہوئی شناخت

ہوائی جہاز کے ساتھ لٹک کر سفر کرنے کے دوران گر کر مرنے والے شخص کی ہوئی شناخت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابل ایئر پورٹ سے ہوائی جہاز کے ساتھ لٹک کر سفر کرنے کے دوران گر کر مرنے والے شخص کی شناخت ہو گئی ہے

غیر ملکی میڈیا کے مطابق طیارے سے گر کر ہلاک ہونے والے شخص کا نام فدا محمد تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹراور ضلع پغمان کا رہائشی تھا، ڈاکٹر فدا محمد شہید اسکوائر کے نجی ہسپتال میں کام کرتے تھے مرحوم کی شناخت کے بعد اسی روز تدفین کردی گئی تھی فدا محمد کے والد پائندہ محمد نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ان کے بڑے بیٹے تھے جن کو بڑی مشکل سے تعلیم دلوائی اور ڈاکٹر بنایا تھا ایک سال قبل ہی فدا محمد کی پسند کے مطابق شادی کی گئی تھی شادی پر بہت خرچہ ہو گیا تھا اور فدا محمد پر قرضہ چڑھ گیا تھا اسی لئے وہ ہمیشہ باہر جانے کی فکر میں رہتااوربیرون ملک جانے کے طریقے تلاش کرتا۔

فدا کے والد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کابل میں طالبان کی آمد کے دوسرے دن وہ گھر سے نکلا اور ہم یہی سمجھے کہ وہ کام پر گیا ہے گھر نہ آنے پر فون کیا تو نمبر بند تھا اور پھر ڈیڑھ گھنٹے بعد فون آیا کہ یہ فون جہاز سے گرنے والے کی جیب میں تھا جب موقع پر پہنچے تو بیٹے کی لاش ملی

واضح رہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ہزاروں لوگ ایئرپورٹ کی طرف بھاگے کیونکہ یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ افغانوں کو بغیر ویزے کے امریکا لے جایا جا رہا ہے سینکڑوں لوگ فوجی طیارے میں گھس گئے تھے جبکہ جن کو جگہ نہ ملی تو جہاز کے ساتھ لٹک گئے جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد کچھ افراد جہاز سے گرتے دیکھے گئے اور اس ہولناک منظر کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں

قبل ازیں طالبان کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے بلکہ سب کے جان و مال و عزت کی حفاظت کی جائے گی، کوئی کسی کے گھر بغیر اجازت داخل نہیں ہو گا