بھارتی یوم جمہوریہ پر آج دنیا بھر میں یوم سیاہ ، دنیا بھر میں بھارت کا سیاہ چہرہ عیاں ہونے لگا

باغی ٹی وی : مودی کا چہرہ عیاں ہو رہا ہے . بھارتی یوم جمہوریہ پر آج دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے، حریت رہنماؤں کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے، عالمی برادری کا مردہ ضمیر جھنجوڑنے کیلئے مظفر آباد، میر پور اور کوٹلی سمیت کئی شہروں میں ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

بھارت 26 جنوری کو 1950 سے ہر سال یوم جمہوریہ کے طور پر مناتا چلا آرہا ہے، آج کے روز دلی میں جہاں نام نہاد جمہوریت کا بگل بجایا جاتا ہے تو غیر قانونی طور پر قبضہ کئے گئے جموں و کشمیر میں سات دہائیوں سے جمہوری حقوق پر قدغن کے خلاف اس روز کو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہلانے والا بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں فوجی قبضے کو دوام بخشنے کی خاطر سنگین غیر جمہوری اقدامات میں ملوث ہے۔

یوم سیاہ کے موقع پر کشمیری عالمی برادری سے غصب کئے گئے مسلمہ جمہوری حقوق دلانے کے لئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں بھارتی یوم جمہوریہ پر عالمی اداروں کی خاموشی بڑا سوالیہ نشان ہے، مردہ ضمیر کو جھنجوڑنے کیلئے مظفر آباد، میر پور اور کوٹلی سمیت کئی شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔
ادھر سکھ برادری بھی دارالحکومت پر چرھی ہوئی ہے . سکھ اب بھارت کے دارالحکومت دہلی میں لال قلعے اور ریڈ زون میں بھی داخل وہ چکے ہیں. ادھر دہلی سے باہر لاکھوں سکھ اپنے ٹریکٹروں پر موجود ہیں. وجوانوں کا کہنا ہے کہ لاکھ مظاہرین دہلی کے باہر موجود ہیں، کاشتکاروں نے 2لاکھ ٹریکٹروں کا رخ دہلی کی جانب ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ پر دہلی میں 100کلو ميٹر لمبی ٹريکٹر پريڈ ہوگی۔ رياستی سرحدوں پر کاشتکار جہاں جہاں بيٹھے ہيں۔ وہيں پر 100کلو ميٹر تک مارچ کريں گے۔

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے بھارتی پولیس اور انتظامیہ نے پہلے ہی سيکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین ماہ سے بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری ہےجبکہ حکومت سے مذاکرات کےہ کئی دور ناکام ہوچکے ہیں۔

سنگھو سرحد پر جاری کسانوں کے دھرنے کے اکثر شرکا پنجاب اور ہریانہ سے آئے ہیں اور وہ سکھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ انہیں دراصل نئی دہلی جانا تھا اور وہاں تاریخی ’رام لیلا میدان‘ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا تھا لیکن سکیورٹی فورسز کے روکے جانے کے بعد وہ یہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔

یہ احتجاج کوئی اکیلی تحریک نہیں ہے۔ 26 نومبر 2020 کو اڑھائی کروڑ افراد نے 24 گھنٹے کی عام ہڑتال بھی کی جو ستمبر میں ملک کی پارلیمان کی جانب سے منظور کیے جانے والے نئے زرعی قوانین کے خلاف تھی۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے منظور کردہ تین متنازع زرعی قوانین کی واپسی، اناج منڈیوں کو ختم نہ کرنے، اناج کی کم سے کم سپورٹ پرائس یا ایم ایس پی کو برقرار رکھنے اور کسانوں کے قرضے معاف کرے۔

بھارتی مسلم نوجوانوں کا سکھ مظاہرین کی مدد کے لیے انوکھا انداز ، مودی کی ایجنسیاں پریشان ہو گئیں

Shares: