fbpx

‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

ہسپتال لوگ شوق سے نہیں مجبوری میں جاتے ہیں۔
اپنے پیاروں کے علاج کے لیے جاتے ہیں اور وہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ اس وقت کی سب سے بڑی حقیقت ہے آج 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہمارے ملک کا ایک عام آدمی تعلیم روٹی کپڑا مکان صحت اور انصاف کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔
خاص کر جب ایک عام آدمی شدید بیماری اور سخت ایمرجسی میں ہسپتال پنہچتا ہے کہ اس کی جان بچا لو کہ میرے پیارے کی سانسیں چلتی رہیں اور اس کو وہاں وہ علاج نہیں ملتا اور ایک عام آدمی کے لیے یہ ایک انتہائی دردناک صورتحال ہوتی ہے اور اس درد و بے بسی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

عمران خان جب آپ وزیر اعظم نہیں بنے تھے تب آپ بار بار تعلیم صحت اور انصاف کی بات کیا کرتے تھے۔

آج آپ کے پاس اقتدار ہے طاقت ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ساتھ ہی بہت سے مافیاز چیلنجز  اور کرپٹ سسٹم (جو کہ کام نہیں کرے دیتا) جیسے مسائل بھی ہیں
لیکن اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان صاحب یہ آپ ہی کی ذمہداری ہے کہ قوم کو ان مسائل میں سے نکالیں۔

وزیر اعظم صاحب ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ آپ اپنے وعدوں کو بھولے نہیں اور جیسا کہ آپ نے حال ہی میں بتایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ جب آپ کی حکومت کے پانچ سال پورے ہوں تو آپ عوام کو تعلیم اور صحت کے مسائل سے نکال چکے ہوں۔

ہیلتھ کارڈ کا اجرء ایک قابل تحسین اقدام ہے کہ ایک غریب ادمی کو 10 لاکھ روپے سالانہ فی خاندان ملتا ہے کہ وہ جس ہسپتال میں چاہے اچھے سے اچھا علاج کروائے اور یہ غریب آدمی کے اس خواب کی تعبیر ہے جو وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا۔۔۔

لیکن۔۔۔جب وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو ان 10 لاکھ روپوں کی قدر اس تیزی سے گرتی ہے کہ کسی سخت بیماری کی صورت میں شائید یہ 10 لاکھ روپے بمشکل 10 دن کا خرچہ ثابت ہوتے ہیں اور اگر 10دن سے زیادہ ہسپتال میں گزرے تو پھر غریب کہاں جائے گا اور کیا ہو گا اسکے علاج کا۔

اب کچھ ذکر سرکاری نظام صحت کا۔۔۔

پاکستان کا موجودہ نظام صحت پاکستان کی کُل آبادی میں سے صرف 30 فیصد عوام کو سہولت مہیا کرتا ہے بقایا 70 فیصد آبادی پرائیویٹ ہسپتالوں، چھوٹے بڑے کلینک سے لے کر جعلی ڈاکٹروں اور عطائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق نظام صحت میں پاکستان 195 ملکوں میں 154 پر ہے۔

یہ ہے سرکاری نظام صحت کا حال تو یقینا پھر عوام نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ تو کرنا ہی ہے

پرائیویٹ ہسپتال مافیا جس میں چھوٹے بڑے ہسپتالوں سے لے کر پرائیویٹ لیبارٹیاں اور فارمیسی شامل ہیں۔
یہ وہی پرائیویٹ مافیا ہے جس کی عوام سے لوٹ مار، بےرحمی اور شدید ظلم و زیادتی کے باعث اُس وقت کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیا۔
ہیومن رائٹس پٹیشن کیس نمبر 10633/2018 
اور اس مافیا کو لگام ڈالی اور تمام تر عدالتی کاروائی اور
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹس کے بعد سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم نامہ جاری ہوا جس میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کے ریٹس طے کردیئے گئے۔

لیکن سب سے مزے مزے کی بات کہ کوئی بھی ہرائیویٹ ہسپتال سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق طے کیئے گئے ریٹس پر کام کرنے پر تیار نہیں۔

جی ہاں۔۔۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا ہی نہیں گیا اور
نہ ہی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن یا پبلک سروس ہیلتھ کمیشن نے اُس حکم نامے پر عملدرآمد کروانے کے لیے یا عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اُڑا دی گئیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل نہ کر کے تمام متعلقہ ادارے اور تمام پرائیویٹ ہسپتال شدید ترین عدالتی توہین کے نہ صرف مرتکب ہوئے بلکہ دھڑلے سے توہین عدالت اس وقت بھی جاری ہے۔

تو اب جبکہ عمران خان نے ہر ایک خاندان کو 10لاکھ روپے سالانہ علاج کی سہولت دے دی ہے تو کیا یہ رقم بےرحم پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے لیے کافی ہے؟

جب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کی طرف سے طے کئیے گئے ریٹس لاگو نہیں ہوں گے تو یہ ہیلتھ کارڈ بیچارہ کیا کرے گا؟

ہیلتھ کارڈ کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اس صورت میں ہی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اُس عدالتی حکم نامے پر عملدرامد ہو جو پرائیویٹ ہسپتال مافیا کی لوٹ مار سے عوام کو بچانے کے لیے جاری کیا گیا۔

نہیں تو اس دس لاکھ روپے کے ہیلتھ کارڈ کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال مافیا ایک بھوکے اور خونخوار مگرمچھ کی طرح منہ کھولے صرف اور صرف ہیلتھ کارڈ ہولڈر کےانتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے۔

‎@Zaman_Lalaa