fbpx

ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں

نیویارک :ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق عارف نقوی کے قائم کردہ ابراج گروپ کو ان دنوں بحرانات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال کا آغاز اس وقت ہوا جب سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے "ابراج” پر الزام عائد کیا کہ اس کی جانب سے طبّی دیکھ بھال کے شعبے میں کام کرنے والے نجی سرمایہ کاری فنڈز میں موجود رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس رقم کی مالیت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔

نجی ایکویٹی فرم دی ابراج گروپ کے سربراہ کی حیثیت سے ، نقوی اثر سرمایہ کاری کے شعبے میں سرخیل تھے ، جس نے دنیا کے لیے اچھا کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے پیسے کمانے کی کوشش کی۔ اس نے دنیا کے چند امیر ترین اور طاقتور لوگوں کے ساتھ کندھے رگڑنے میں ہفتے گزارے ، بشمول بل گیٹس ، بل کلنٹن ، اور اس وقت کے گولڈمین سیکس کے سی ای او لائیڈ بلینکفین شامل ہیں ، اوباما سے بھی اچھے تعلقات کے حوالے سے مشہور تھے

جہاں تک عارف نقوی کی گرفتاری کا معاملہ ہے تو اس کی بہت سی بنیادی وجوہات ہیں ، جن کا مختصرخلاصہ ہے کہ عارف نقوی نے فراڈ کیا ،

دبئی کی تباہ حال پرائیویٹ ایکویٹی فرم ’’ابراج کیپیٹل لمیٹیڈ‘‘ کے چیف ایگزیکٹیو اور مینجنگ پارٹر کو اپنے سرمایہ کاروں سے فراڈ کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔امریکی فیڈرل پراسیکیوٹر کے مطابق ابراج کیپیٹل کی دھوکا دہی سے متاثرہ افراد کی فہرست میں مائیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس کی ’’گیٹس اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا نام بھی شامل ہے۔ جس سے عارف نقوی نے ایک سوملین ڈالرز کا فراڈ کیا

عارف نقوی وہ "ابراج” گروپ کے بانی ہیں جو افریقا، ایشیا، لاطینی امریکا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں بھاری سرمایہ کاری کے امور چلا رہی ہے۔

عارف نقوی نے 2002ء میں اپنی کمپنی قائم کی اور اس وقت کمپنی کے اصل اثاثوں کی مالیت صرف 6 کروڑ امریکی ڈالر تھی۔ تاہم وہ تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی اور 2017ء میں اس کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 13.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

اکیسویں صدی کے آغاز پر عارف نقوی نمودار ہوئے اور اچانک سے ایک مشہور شخصیت بن گئے۔ اس دوران اُن کے بارے میں یہ سوالات جنم لیتے رہے کہ وہ کس طرح پاکستان کے ایک غریب قصبے سے منتقل ہو کر خلیج کے علاقے میں ایک مشہور ترین کاروباری شخصیت بن گئے۔

عارف نے اپنے کام کے سفر کا آغاز کراچی میں "American Express” سے کیا۔ بعد ازاں وہ لندن چلے گئے اور وہاں امریکی کمپنی "آرتھر اینڈرسن” کی شاخ میں کام کیا۔ وہاں سے عارف نقوی کے خلیج کا رخ کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

خلیج میں عارف نقوی نے سب سے پہلے سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے 90ء کی دہائی کے آغاز میں "علیان گروپ” میں کام کیا جو اُس وقت مملکت میں بڑی تجارتی کمپنیوں میں سے ایک تھا۔ عارف جلد ہی متحدہ عرب امارات میں دبئی منتقل ہو گئے اور وہاں 50 ہزار ڈالر کی رقم سے 1994ء میں ایک کمپنی قائم کی۔

اس کے محض 5 برس بعد 1999ء میں عارف نے بڑی گاڑیوں کی کثیر القومی کمپنی کی مشرق وسطی کی شاخ کو خرید لیا، کمپنی کا صدر دفتر لندن میں ہے۔ اس موقع پر عارف نے 10.2 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی۔

کچھ عرصے بعد عارف نے اس کمپنی کے کچھ حصص 17.3 کروڑ ڈالر میں فروخت کر دیے۔ اس طرح ان کے پاس گاڑیوں کی کمپنی کے حصص کا ایک حصّہ باقی رہا اور ان کی لگائی گئی اصل رقم بھی واپس آ گئی۔ علاوہ ازیں انہوں نے 7.1 کروڑ ڈالر کا منافع بھی کمایا۔

سال 2002ء میں عارف نقوی نے "ابراج کیپیٹل” کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جو 2012ء میں "ابراج گروپ” میں تبدیل ہو چکی تھی۔ رواں برس مارچ سے یہ پاکستانی کاروباری شخصیت مشکلات میں گِھرنا شروع ہو گئی۔

عارف نقوی کو منی لانڈرنگ سمیت 16الزامات کا سامنا ہے، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ جعل سازی اورمنی لانڈرنگ سمیت 16الزامات پرعارف نقوی کو 300برس تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے مبینہ طور پر 389 ملین ڈالر کا فراڈ کیا جو استغاثہ پیش گئے تخمینہ سے کہیں زیادہ نکلا۔امریکی پراسیکیوٹر نے نئی دستاویزات عدالت میں پیش کی جن کے مطابق عارف نقوی نے 2009سے 2018 کے دوران 385 ملین ڈالر آگے پیچھے کیے۔

یہ رقم 3،700 ٹرانزیکشنز کے ذریعے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کی جن کو ذاتی کاموں کے لئے استعمال کیا۔پراسیکیوٹر نے نیویارک کی عدالت سے بینکوں سے ریکارڈ کے حصول کے لئے درخواست بھی دائر کر دی ہے۔

عارف نقوی کے خلاف دبئی، امریکا اور برطانیہ میں مقدمات چل رہے ہیں۔وہ “ابراج” گروپ کے بانی ہیں جو افریقا، ایشیا، لاطینی امریکا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ،ایشیا میں بھاری سرمایہ کاری کے امور چلا رہی ہے

اس وقت جو سنگین الزامات ہیں اس کے مطابق کمپنی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی چلی گئی اور 2017ء میں اس کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 13.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔اکیسویں صدی کے آغاز پرعارف نقوی نمودار ہوئے اور اچانک سے ایک مشہور شخصیت بن گئے۔لیکن بڑی شخصیات سے کیا گیا فراڈ ان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔۔

یاد رہے کہ 12اپریل2019کو یو اے ای کی تباہ حال پرائیویٹ ایکویٹی فرم ابراج کیپیٹل لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو اور مینیجنگ پارٹنر کو اپنے سرمایہ کاروں سے فراڈ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

امریکی فیڈرل پراسیکیوٹر کے مطابق ابراج کیپیٹل کی دھوکا دہی سے متاثرہ افراد کی فہرست میں مائیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس کی گیٹس اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا نام بھی شامل ہے۔

عارف نقوی کے بارے میں امریکی اوردیگرمغربی ماہرین قانون کا خیال ہے کہ اگریہ الزمات درست ثابت ہوئے تو عارف نقوی کو300 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے‌