fbpx

عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟