اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قانون کے مطابق بتائیں کہ اپیل قابل سماعت کیسے نہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ 1923کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ اپیل نہیں ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں اپیل کا کوئی حق موجود ہی نہیں ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا ضابطہ فوجداری کے تحت بھی اپیل نہیں ہو گی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ سی آر پی سی اس حوالے سے خاموش ہے، اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل قابل سماعت ہی نہیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ہمارادوسرا اعتراض یہ ہے کہ اپیل 2رکنی بنچ نہیں سن سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ آپ متبادل اعتراض کررہے ہیں؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ پہلی استدعا ہے کہ اپیل قابل سماعت نہیں، دوسرا اعتراض 2رکنی بنچ پر ہے،یہ اپیل ہائیکورٹ کا سنگل بنچ سن سکتا ہے، 2رکنی بنچ نہیں،
عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں ابھی اپیل سے متعلق پروسیجرل طریقہ کار سے بتائیں کہ طریقہ کار کیا ہوگا؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت کے سامنے اسپیشل کورٹس کے ججز کی تعیناتی کے قوانین عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پروسیجرل لاء تمام سی آر پی سی تو نہیں، ایک شق ہے،سیکشن 10 کو دیکھیں تو اس نے طریقہ کار سے متعلق بتایا ہے،کیا یہ اپیل سیکشن 10 کے تحت ہے یا سی آر پی سی کے تحت دائر ہوئی ہے؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہ اپیل سی آر پی سی کے سیکشن 410 کے تحت دائر کی گئی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر نےایک بار پھر اسپیشل کورٹس کے ججز کی تعیناتی بارے قوانین کے حوالے دیئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جو سوالات پوچھے گئے انہیں پر دلائل دیں، کچھ قوانین کا استعمال بارڈر کے اس پار بھی استعمال ہورہے ہیں،
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سکندر ذولقرنین نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایکٹ میں پراسیکیوٹر کا ذکر نہیں ہے تو یہ کونسل کیسے بنے ہوئے ہیں ،ایف آئی اے نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر پراسیکیوشن کے بنیادی اعتراضات پر دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔
عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،
واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،
قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔
سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان
سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی
سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم
سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان
عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ