اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

0
432
islamabad highcourt

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 نومبر تک سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا. اسٹے نا دینے کی اٹارنی جنرل کی استدعا اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی، اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے پراسیکوٹر نے بار بار استدعا کی کہ سماعت کل تک ملتوی کر دیں اسٹے نا دیں ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کے لیے کیس رکھ رہے ہیں سارا ریکارڈ لے کر آئیں کیوں جیل ٹرائل کر رہے ہیں ،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمران خان کے خلاف سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا. اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست ہی مسترد کر دی تھی جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اے ٹی سی جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے پر بھی سوال اٹھا دیا! جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کا آغاز وفاقی حکومت نے کیا.چیف جسٹس کی رائے لی گئی لیکن حتمی فیصلہ بھی وفاقی حکومت نے ہی کیا،

اسلام آباد ہائیکورٹ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اوپن کورٹ سماعت اور جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیازنے کیس کی سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی بھی عدالت میں پیش ہوئے،

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کے چند افراد کو سماعت میں جانے کی اجازت کا مطلب اوپن کورٹ نہیں ، جس طرح سے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے بھی اوپن کورٹ کی کارروائی نہیں کہہ سکتے ،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو ٹرائل کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا اور کہا کہ وفاقی کابینہ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ، وفاقی کابینہ کی جیل ٹرائل منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کر دیں گے ،

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ نوٹیفکیشن ہم دیکھیں گے اس میں کیا لکھا ہوا ہے ، تمام ٹرائلز تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہو گا ، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے کیا غیر معمولی حالات تھے کہ یہ ٹرائل اس طرح چلایا جارہا ہے ؟آپ نے ہمیں بتانا ہے کہ دراصل ہوا کیا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تمام متعلقہ اداروں سے ریکارڈ لیکر عدالت کے سامنے رکھ دوں گا، عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کب کن حالات میں کسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ جیل ٹرائل ہو گا ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے موجود ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی، کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا سٹیٹس کیا ہو گا؟

واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

 عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

Leave a reply