"ایدے منہ تے کپڑا پاؤ” عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟

عمران خان عدالتی فیصلے کے وقت بیڈ روم میں سو رہے تھے اور فیصلے سے بے خبر تھے
0
147
imran khan

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد انکی رہائشگاہ سے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے،

عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ عدالتی فیصلے کے چند منٹوں بعد ہی عمران خان پولیس کی تحویل میں تھے، توشہ خانہ کیس میں عدالت نے کہا تھا کہ ساڑھے 12 بجے فیصلہ سنائیں گے، اسوقت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پہنچ چکے تھے مگر عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عدالتی فیصلے کے وقت عمران خان گھرمیں سو رہے تھے، اور بے خبر تھے کہ اچانک پولیس گرفتاری کے لئے پہنچ گئی،

عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو تصویر سامنے آئی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی آنکھوں میں سوجن ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی نیند میں ہیں،عمران خان کی گرفتاری کے حوالہ سے پی ٹی آئی کے آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کیلئے زمان پارک میں پولیس کی زبردستی انٹری ،توڑ پھوڑ اور تشدد

پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پچھلے گیٹ سے پولیس والوں نے زبردستی اندر انٹری کی ہے،پولیس والوں نے توڑ پھوڑ کر کے ، جتنے بھی گارڈز تھے ان کو مار کر ، دروازہ توڑ کر پولیس کی ساری نفری اندر گھسی ہے ۔ اس کے بعد ہم نے فوراً جا کر خان صاحب کو بتایا کہ خان صاحب پولیس آپ کو گرفتار کرنے آ ئی ہے ۔خان صاحب نے کہا کہ میں 5 منٹ میں منہ ہاتھ دھو کر اور تیار ہو کر باہر آ رہا ہوں ۔ خان صاحب نے اندر جا کر اپنا ٹریک سوٹ اور جوتے پہنے ہیں ۔ اتنی دیر میں انہوں نے خان صاحب کے گھر کے مین دروازے کو توڑ کر فورس انٹری کر لی اور ہم جتنا بھی سٹاف تھا ، 5،6 لوگ تھے ان کو انہوں نے ڈنڈے مارے ، ان کے کپڑے پھاڑ دیے ۔ ابھی وہ یہ کر رہی رہے تھے کہ خاں صاحب باہر آ گئے ۔نہ ان کا سٹاف گھبرایا ہوا تھا ، نہ خان صاحب گھبرائے ہوئے تھے وہ بالکل confident تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آ رہاہوں میں کہاں جا رہا ہوں ، میں تو خود گرفتاری دینے کیلئے تیار ہوں ، جب میں ساتھ چل رہا ہوں تو تم لوگ کیوں یہ سب کر رہے ہو ۔ جب وہ ان کے ساتھ آرام سے چل رہے تھے تو تو پولیس والے خان صاحب کو گھسیٹ کر، دھکے مار کر کہنے لگے "چل ساڈے نال چل، ایدے منہ تے کپڑا پاؤ”۔پولیس والوں نے ان کہ منہ پر کپڑا ڈالااور ان کو گھسیٹتے ، دھکے دے کر لے کر گئے ہیں ۔ اس سارے scenario میں نہ سٹاف گھبرایا ہوا تھا نہ خان صاحب خود، وہ بالکل کانفیڈنٹ لگ رہے تھے ، کوئی مسئلہ مسائل نہیں تھا۔ خان صاحب نے کہا کہ میں بالکل گرفتاری دینے کیلئے تیار ہوں لیکن ان سے کہو کہ لوگوں کونہ ماریں میں 2 منٹ میں کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں۔ اتنی دیر میں وہ آئے ہیں گھر میں فورس انٹری کی ہے ، بیڈ روم میں گھسنے کی کوشش کی ہے اور اس طرح سے ان کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

Leave a reply