سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

ہائیکورٹ میں آج ہماری آٹھ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں ,وکیل خواجہ حارث
0
66
tosha imran

خواجہ حارث کی طرف سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع کی استدعا
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا

توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ کل جاری ہو گا چیئرمین پی ٹی آئی کی کیس دوسری عدالت منتقلی درخواست پر بھی کل فیصلہ جاری ہو گا ،ٹرائل کورٹ میں حق دفاع بحال کرنے کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،حق دفاع بحالی کی درخواست پر سماعت کے دوران حکم امتناع کی درخواست پر بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے آج چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر آج فیصلہ محفوظ کیا .عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد آٹھ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا

توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کا ٹرائل روکنے اور کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ بھی روسٹرم پر موجود تھے

وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ میں ایک چیز آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں 31 جولائی کو 342 کا بیان ہوا ،کل ہم نے گواہوں کی لسٹ عدالت میں جمع کرائی اور کہا 24 گھنٹے میں گواہ دستیاب نہیں ہو سکے ،ٹرانسفر درخواست پر جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ٹرائل کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتی ،اس میں کیا جلدی ہے ایک دن بھی گواہ لانے کے لیے نہیں دیا گیا ،ہم نے حق دفاع ختم کرنے کا کل کا آرڈر بھی آج چیلنج کیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے کہا آج گیارہ بجے دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا اس سے جج کا تعصب ظاہر ہوتا ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی جج سے متعلق ایف آئی اے کی ایک رپورٹ بھی آئی ہے، وکیل نے کہا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ جج کے فیس بک اکاؤنٹ سے وہ پوسٹ نہیں ہوئی،یکطرفہ رپورٹ کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ تو ہے ، آپ کی ٹرانسفر درخواست جانبداری کی بنیاد پر ہے ؟آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے میں عدالت کے سامنے اپنی گزارشات رکھتا ہوں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو مزید کاروائی آگے بڑھانے سے روکے ،ہائیکورٹ میں آج ہماری آٹھ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں ، میرے حوالے سے ٹرائل کورٹ نے لکھا کہ انہوں نے سسٹم کو تباہ کر دیا ہے ،

قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا سسٹم پرفیکٹ نہیں اس میں کچھ خامیاں ہیں ،ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ خامیاں ختم ہو سکیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم رولز میں یہ ڈال سکیں کہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ہو ،

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دوسری درخواست دائرہ اختیار سے متعلق ہے، ہم نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کے پاس جانا تھا،ہائیکورٹ نے ہماری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل منظور کی،ہائیکورٹ نے اگر کیس ریمانڈ بیک کیا تھا تو کسی اور جج کو بھیجا جانا چاہئے تھا، عدالت نے استفسارکیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے جج کو آپکی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنا چاہئے تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے کیس کو ایک دن وقفے کے بعد لگانے پر اتنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ وکلاء جا کر پریس کانفرنسز کریں تو اس سے کیا اثر پڑے گا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کیسز سے متعلق ایک بحث صبح یہاں ہوتی ہے اور ایک شام کو ہوتی ہے،‏شام میں جو بحث ہوتی ہے اسکا یہاں ہونے والی بحث سے زیادہ اثر ہوتا ہے، شام کو ہونے والی بحث سے عوامی رائے بنتی ہے انکے دیکھنے سننے والے زیادہ ہوتے ہیں، اس عدالت کی سماعت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس سے ستر لوگ موجود ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمان کو سوچنا اور قانون بنانے چاہئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پیمرا کا کوڈ اینڈ کنڈکٹ موجود ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ نہیں ہو گا، خواجہ حارث نے کہا کہ زیرالتواء کیسز پر کسی فریق کو کوئی بات نہیں کرنی چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں الیکٹرانک میڈیا کی بات کر رہا ہوں کہ رات آٹھ سے بارہ بجے تک کیا چلتا ہے،خواجہ صاحب آپ نے پچھلے سالوں میں کافی سیاسی کیسز کئے، خواجہ صاحب،آپ کو کبھی آٹھ بجے کسی چینل پر نہیں دیکھا،پرانے وقتوں میں تو کہتے تھے کہ ججز اخبارات بھی نہ پڑھیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج کا یہ کام نہیں کہ وہ سوچے کہ فیصلے سے عوام کیا سوچے گی،

سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین بجے کے بعد آپکی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوگی ، خواجہ صاحب بہت سنئیر وکیل ہیں، امجد پرویزنے کہا کہ خواجہ صاحب کی تعریف پر اب ہم جلنا شروع ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بھائی ہیں آپ کو یاد ہوگا بہت پہلے ہم دونوں اکٹھے ایک ایف آئی ار کا متن لکھا تھا، میں خواجہ صاحب کے سنئیر ہونے کی وجہ سے تعریف کررہا ہوں،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کو بتا دیں کہ ہائیکورٹ میں دلائل جاری ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈویژن بنچ بھی ہے اور ایک اجلاس بھی بلایا ہوا ہے ،تین بجے کے بعد دوبارہ سماعت کرینگے

توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسٹے ملے گا یا نہیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر جاری کرے گی ،

Leave a reply