fbpx

عمران خان سن لیں، بہت ہو گیا، اب دھمکی اور گالی کا جواب ملے گا، مریم اورنگزیب

عمران خان سن لیں، بہت ہو گیا، اب دھمکی اور گالی کا جواب ملے گا، مریم اورنگزیب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر اس وقت مافیا حکمران مسلط ہے۔ عمران خان کو دھمکی کا جواب دھمکی سے ملے گا۔ الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس نہ بیٹھتا تو آج مسلم لیگ ن کی حکومت ہوتی۔

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف پر ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، آج 6 ماہ ہو گئے، ان کیخلاف کوئی ریفرنس نہیں ہے۔ شہباز شریف کا تمام بزنس فیملی بزنس ہے۔ بزنس میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔نیب صرف مسلم لیگ ن اور اپوزیشن کا احتساب کر رہا ہے. میڈیا نیب کی پریس ریلیز پر ہمارا موقف بھی ساتھ نشر کرے

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت نیب صرف ن لیگ کا احتساب کررہا ہے، پاکستانی سیاست میں وزیراعظم اقتدار سے سیدھے جیل جاتے ہیں، شہباز شریف کے حوالے سے بات کرنے والے ابھی تک ایک دھیلہ کی کرپشن ثابت نہیں کرسکےاور نیب ابھی تک کوئی ریفرنس تک دائر نہیں کرسکا، پارلیمنٹ ایکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ابھی تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے ۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد قانون سازی کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ چشمہ جہلم لنک کینال پر پن بجلی منصوبے کا معاملہ مشترکہ مفادات کو بھیجنا چاہیے،اب یہ منصوبہ متنازع بن چکا اس کو مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جائے

مریم اورنگزیب نے چیئرمین نیب سے افسران کی سرگرمیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ نیب کی ہواؤں کا رخ پھر مسلم لیگ ن کی جانب ہو گیا ہے۔ رانا ثنااللہ اورحمزہ شہباز کے 6 ماہ بعد بھی ریفرنس نہیں آرہے،نیب صرف شہبازشریف کی پراپرٹی ضبط کرنےکی جھوٹی پریس ریلیز بناتی ہے، ریفرنس بناتے وقت کچھ بھی نہیں ہوتا ان کے پاس،دوسری طرف ن لیگ کو احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنارہے ہیں،

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران خان سن لیں، اب دھمکی اور گالی کا جواب بھی اسی طرح ملے گا،پاکستان کی عوام جھولیاں اٹھا کر بتارہی ہے اصل مافیا کون ہے،سلائی مشین سے بے نامی خرید کر بند کمرے میں ڈیل کرتے ہیں،آپ پارلیمان کو تالا لگا کر سبوتاژ کرچکے ہیں،وزیراعظم کی وجہ سے پروڈکشن آرڈرز جاری ہونے پر بھی اسیر ارکان کو نہیں آنے دیا جاتا،