عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

0
50

لندن :پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے دل کھول کر دیں۔

ان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ پاکستان میں اور اس کے باہر رہنے والے لوگ سیلاب سے بھری سڑکوں اور کھیتوں کی تصویروں سے حیران رہ گئے ہیں اور لوگ سیلاب سے اپنے گھر تباہ ہونے کی وجہ سے اپنے دن اور راتیں باہر گزارنے پر مجبور ہیں۔

اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے ان فلاحی تنظیموں کے نام بتائے ہیں جو بحران کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہیں، جب کہ دوسری میں انہوں نے بینک آف پنجاب اور بینک آف خیبر کے اکاؤنٹ نمبر دیے ہیں۔ جہاں لوگ اپنے پیسے جمع کراسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی تحریر کردہ فلم کی لندن میں پرائیوٹ اسکریننگ کا اعلان کردیا۔

ٹوئٹر پیغام میں جمائما گولڈ اسمتھ نے بتایا کہ پرائیوٹ اسکریننگ میں فلم دیکھنے کیلئے سب سے زیادہ رقم کی بولی لگانے والے شخص کو اس کے 20 ساتھیوں کے ہمراہ فلم دکھائی جائے گی۔

لندن میں خصوصی اسکریننگ جمائمہ خان اور فاطمہ بھٹو کی طرف سے منعقد کی جارہی ہے۔ ویب سائٹ 32 آکشن ڈاٹ کوم پر بولی کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ بولی لگانے والے افراد ریلیز ہونے سے قبل ہی پرائیوٹ اسکریننگ پر 20 دوستوں کے ساتھ فلم دیکھیں گے۔

 

 

 

بولی جیتنے والاشخص اپنے20 ساتھیوں کا انتخاب خود کرےگا اورفلم دیکھنے کیلئے وقت اور تاریخ کا تعین بھی خود کرسکے گا۔جمائمہ کی فلم What’s Love Got To Do With It جنوری 2023ء میں بین الاقوامی سطح پرریلیز ہوگی۔ فلم میں مرکزی کردارمعروف اداکارہ سجل علی ادا نبھا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں لگاتار جاری ہیں اور اس دوران جان گنوانے والے افراد کی تعداد 1191 ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے شمال سے آنے والا سیلابی ریلا دریائے سندھ کے بندوں کو توڑتا ہوا ضلع دادو میں داخل ہو گیا ہے، جس سے وہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں ایک، خیبر پختون خوا میں 4 اور سندھ میں 15 افراد کی جان چلی گئی۔ اب تک سندھ میں سب سے زیادہ 422 اموات درج جکی گئی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی یومیہ رپورٹ کے مطابق 14 جون سے اب تک 3500 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں 87 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 27 افراد جاں بحق ہو گئے۔

سیلاب کے باعث بلوچستان میں 253، خیبر پختونخوا میں 264 اور پنجاب میں 188 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں 522 مرد، 246 خواتین اور 399 بچے شامل ہیں۔ ملک بھر کے 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے متاثر ہيں۔بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں 3لاکھ 72 ہزار 8 سو 23 گھر تباہ ہوئے۔بارشوں اور سيلاب سے جزوى طور پر 7 لاکھ 33ہزار 536 گھروں کو نقصان پہنچا۔

ملک بھر میں 243 پلوں اور 173 دکانوں کو حاليہ بارشوں سے نقصان پہنچا۔ کل 5063 کلو ميٹر سڑک بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئیں۔7 لاکھ 31 ہزار سے زائد مويشيوں کا نقصان ہوا۔

اطلاعات کے مطابق خیرپورناتھن شاہ اور جوہی تعلقہ میں مین نارا ویلی (ایم این وی) نالے میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔یہ دادوشہر سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اگر اس نالے میں پانی کی سطح بڑھتی رہتی ہے تو دادو شہرشدید متاثر ہوگا۔

پاکستان میں رواں سال اگست میں 30 سالہ اوسط کے مقابلے میں قریباً 190 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے جو مجموعی طور پر 390.7 ملی میٹر (15.38 انچ) ہے۔بارشوں کے نتیجے میں سیلاب سے صوبہ سندھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور 30 سالہ اوسط سے 466 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے۔

ملک کے شمال میں پہاڑوں سے شروع ہونے والا سیلاب ہزاروں مکانوں، کاروباری اداروں، بنیادی ڈھانچے اور فصلوں کو بہا لے گیاہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 22 کروڑافراد پر مشتمل کل آبادی میں سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد(15 فی صد) متاثر ہوئے ہیں۔

Leave a reply