ہندوستان میں پہلے بھی مسلمانوں کو ہندوؤں کی انتہاء پسندی کا سامنا رہا ہے, لبّیک یا رسول ﷺ سربراہ

لاہور: تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے زیر اہتمام مرکز صراط مستقیم تاج باغ لاہور میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ العزیز کے 809ویں عرس کے موقع پر ”خواجہ غریب نواز سیمینار“ کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت حضرت پیر سید شاہ زیب شاہ صاحب نے کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلا لی نے کہا: سرزمین ہند کے دامن میں حضرت خواجہ غریب نواز کا مزار سرزمین ہند کے اسلامی تشخص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارت میں روحانی درگاہوں پر انتہاء پسندوں کے حملے بہت بڑی دہشتگردی ہیں۔ہندوستان میں پہلے بھی مسلمانوں کو ہندوؤں کی انتہاء پسندی کا سامنا رہا ہے۔ ہندو بنیا یاد رکھے مسلمان اپنے دینی شعائر نہیں چھوڑ سکتے۔ حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری اسلامی برصغیر کے ایوان کی دائمی چمک کا نام ہے۔ آپ نے اسلام کی روشن تعلیمات سے کفر و شرک کے اندھیرے دور کیے۔ آپ نے باطل کے مقابلے میں جو حق کا پرچم بلند کیا اس سے ہمیشہ کے لیے حق پرستوں کو حوصلہ ملتا رہے گا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ برصغیر کے ضمیر کو منور کرنے والی عظیم شخصیت ہیں۔ آپ نے پرتھوی راج کو شکست دے کر دو قومی نظریے کو اجاگر کیا۔ آپ نے برصغیر کے مسلمانوں کو وہ سوز بخشا جو منفرد اسلامی سلطنت کے قیام کا سبب بنا۔ آپ نے اپنے حسن اخلاق سے غیر مسلموں کو مسخر کیا۔ آپ نے اسلامی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے باطل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ نے تصوف کی حقیقی روح کو بیدار کر کے مجاہد، غازی اور صوفی تیار کیے۔ ڈاکٹر محمدا شرف آصف جلالی نے مزید کہا: تصوف ایک حقیقت ہے جو علیحدہ دین نہیں بلکہ قرآن و سنت ہی کی خوشبو ہے۔ تصوف کے نام پر خرافات اور مخصوص کلچرل پروگرام تصوف کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ شعبدہ بازی اور توہم پرستی کا تصوف سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ مزارات اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ رحمت خداوندی کے گہوارے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: بھارت میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی مسلمانوں کو مذہبی آزادی پر بہت بڑا حملہ ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی کے زمانے میں حالات آج سے زیادہ گھمبیر تھے۔ مگر آپ نے کہا: ہندوؤں کی شدید مخالفت کی وجہ سے گائے کی قربانی صرف جائز نہیں بلکہ واجب ہو گئی ہے۔ کانفرنس میں مولانا محمد فاروق چشتی، علامہ محمد الیاس جلالی، علامہ محمد علی نواز عطاری، مولانا محمد شعیب قادری اور علامہ محمدا شرف جلالی و دیگر نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.