َلندن:بھارت کے روس سے بڑھتے تعلقات پر مغربی ممالک میں بھارت کے خلاف شدید تشویش پائی جارہی ہے۔
باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہےکہ بھارت روس کے عزائم کی توثیق کر رہا ہے، مغربی ممالک بشمول برطانیہ میں روس اور بھارت کے بڑھتے مراسم پر شدید تحفظات پائے جا رہے ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق بھارت یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے، یہ کسی صورت بھی نیوٹرل پوزیشن نہیں، برطانوی وزیر اعظم بھارت کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل کر رہے ہیں تو دوسری جانب بھارت روس کے عزائم کی حمایت کر رہا ہے، برطانوی وزیر اعظم جہاں بھارت میں مودی سرکار کے ہاتھوں قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر چپ سادھے ہوئے ہے وہاں بھارت کا روس کی جانب جھکاؤ بڑھتا جارہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار پارلیمنٹ کو استعمال کرکے بھارتی قوانین میں بڑی تبدیلیاں لارہی ہے جسے مسلمانوں اور اقلیتوں پر مظالم کی بدترین لہر آنے کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے کرسمس کے موقع پر میٹنگ میں بھارتی اور روسی وزرائے خارجہ میں ایک غیر معمولی ڈیل ہوئی، اس ملاقات میں ایک نئے عالمی نظام کے قیام پر بھارت اور روس نے اتفاق کیا۔
آسڑیلیا میں پادری نے 45 سال چرچ کیلئے وقف کرنے کے بعد اسلام قبول …
اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ بھارتی اور روسی وزرائے خارجہ نے میٹنگ کے بعد ایک قریبی اور خصوصی اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا، بھارتی وزیر خارجہ نے روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور صدر پیوٹن کے عالمی ڈیزائن کی توثیق بھی کی۔
برطانوی اخبارکا مزیدکہنا ہےکہ مشترکہ پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ کی جانب سے مغرب کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنے پر ساتھ کھڑے بھارتی وزیر خارجہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی، دونوں ممالک نے نئے ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار شروع کرنے کا بھی اعلان کیا یہ اعلان یوکرین کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی ہے اور روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں نیا حامی مل چکا ہے، بھارتی اور روسی وزرائے خارجہ نے عندیہ دیا کہ روس کے یوکرین پر غیر قانونی حملے سے بھارت اور روس کے مثبت تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑےگا۔
جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات …
برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ مودی سرکار پارلیمنٹ کو استعمال کرکے بھارتی قوانین میں بڑی تبدیلیاں لارہی ہے جسے مسلمانوں اور اقلیتوں پر مظالم کی بدترین لہر آنےکا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے،برطانوی اخبار میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور نے مودی حکومت کے اقدامات کو بھارتی پارلیمانی جمہوریت کا جنازہ قرار دیا تھا، بھارت اور روس اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کے لیے مزاکرات کا آغاز کرچکے ہیں، یہ یوکرین کے معاملے پر مغرب کے بیانیے کی نفی ہے –
واضح رہے کہ حال ہی میں اکونامسٹ میگزین نے ڈیموکریسی انڈیکس میں بھارت کو ایک ناقص جمہوریت قرار دیا تھا۔