fbpx

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ نے شہر قائد کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن گرفتار کر لیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ نے کراچی میں بڑی کارروائی کی جس کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را نیٹ ورک کے اہم رکن عبدالجبار عرف ظفر ٹینشن کو گلستان جوھر سے گرفتار کیا گیا ہے،گرفتار ملزم بم تیار کرنے اور جدید ہتھیار چلانے کا ماہر ہے، ملزم کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ملازمت کرتا تھا جبکہ عسکری تربیت کے لیے چار مرتبہ بھارت جا چکا ہے ۔

ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے جبکہ ملزم ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما آفاق احمد اور کارکنوں پر حملوں میں بھی ملوث ہےاور وہ کراچی میں را کے سلیپر سیل کے لئے کام کررہا تھا،ملزم کو تمام ہدایات بھارت سے محمود صدیقی دیتا تھا اورمحمود صدیقی کی طرف سے بھیجی گئی حوالہ ہنڈی کی رقم وصول کرتا رہا تھا،

ایف آئی اے ھکام کے مطابق ملزم کو بھیجی گئی رقم دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لئے استعمال کی جاتی تھی،ملزم اجمل پہاڑی اور ارشد چھوٹا گروپس کے ساتھ کام کرتا رہا ہے جبکہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر دو دفعہ جیل بھی جا چکا ہے

واضح رہے کہ 15 جولائی کو ایف آئی اے حکام نے کامیاب کروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سلیپر سیل کا اہم رکن ظفر گرفتار کر لیا گیا.ملزم ظفر بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے،

گرفتار ملزم نے بھارت میں چودہ ماہ دہشت گردی کی ٹریننگ لی.ملزم ظفر کو دہلی میں محمود صدیقی گروپ نے عسکری تربیت دلوائی، ملزم ظفر کا تعلق ایم کیوایم لندن سے ہے،گرفتار ملزم بم بنانے اور جدید ہتھیار چلانے کا ماہر ہے .ملزم ظفر فائر بریگیڈ میں سرکاری ملازمت بھی کرتا تھا،

ماہ مئی میں کراچی سے را سلیپر سیل کا ایک اور اہم رکن گرفتار کرلیا گیا، ملزم کراچی ایئر پورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا۔

ملزم کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا، ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے بھارت بھی جا چکا ہے، ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے۔ ملزم کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، ملزم سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے،

ایف آئی اے کے مطابق اے ایس آئی مصور نقوی را سلیپرسیل کا اہم رکن ہے۔ ملزم کراچی ایئرپورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھاملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا تھا، محمود صدیقی کی ہدایت پر ملزم کو رقم فراہم کی جاتی تھی۔ ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے انڈیا بھی جا چکا ہے ملزم ایئرپورٹ پر ساتھیوں کی آمدورفت میں سہولت کاری بھی کرتا تھا

قبل ازیں ماہ مئی میں ہی ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل کے اہم رکن آصف صدیقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم آصف صدیقی 17 گریڈ کا سرکاری ملازم تھا،

ملزم بھارتی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتا تھا اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں اہم معلومات بھارت بھجواتا تھا، اس حوالہ سے ملزم نے کئی ای میلز کی ہیں، ملزم نے حساس مقامات کی تصاویر اور تفصیلات بذریعہ ای میل بھارت بھیجی ہیں.

واضح رہے کہ اس سے قبل بیس اپریل کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اے ایس آئی گرفتارکر لیا گیا تھا،پولیس کے مطابق ایس آئی یو پولیس اور اداروں نے گلستان جوہر میں کاروائی کی،اے ایس آئی شہزاد پرویز شاہراہ فیصل تھانے میں تعینات تھا۔ ملزم شہزاد پرویز کو محمود صدیقی گروپ کی جانب سے بھاری رقم فراہم کی جارہی تھی ،گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے

پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ٹارگٹ کلرز کی ٹیم کا اہم رکن بتایا جاتا ہے ،ملزم اہلکار ایم کیوایم لندن سے وابستہ ہے،اے ایس آئی شہزاد پرویز گلستان جوہر کا رہائشی ہے،گرفتار اہلکار کے قبضے سے 2 دستی بم برآمد کئے گئے تھے

قبل ازیں  یکم اپریل کو بھی شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار ملزمان کی جانب سے انکشاف کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ایک دفتر پر اداروں نے چھاپہ مارا اور ایک مشین گن، دو پستول اور گولیاں برآمد کر لی

اداروں نے چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر بھی برآمد کر لیا،ملک کے خلاف ذہن سازی کا لٹریچر بھی برآمد کیا گیا،ملزم ماجد نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں اپنا آفس بنا رکھا تھا،گروہ کے سرغنہ شاہد متحدہ کی ہدایت پر آفس بنایا گیا تھا

کاروائی جے آئی ٹی میں انکشافات کے بعد کی گئی،ایف آئی اے نے ملزمان کے زیراستعمال آئی پی کی جانچ پڑتال کر لی ،ملزمان کو بھارت سے تخریب کاری کے لیے ہدایات ملتی تھی ،ای میل ریکارڈ اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا گیا ،ملزمان شاہد متحدہ عادل انصاری اور ماجد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی،

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

چھاپوں کے دوران ملک کی اہم تنصیبات کی تصاویر نقشے اور چیک بکس برآمد ہوئیں،ایس آئی یو پولیس اور ایف آئی اے نے کارروائیاں تیز کر دیں ،اورتحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار