fbpx

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف پاکستانی اداروں کی کامیاب کاروائیاں جاری ہیں،

کراچی سے را سلیپر سیل کا ایک اور اہم رکن گرفتار کرلیا گیا، ملزم کراچی ایئر پورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا۔

ملزم کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا، ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے بھارت بھی جا چکا ہے، ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے۔ ملزم کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، ملزم سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے،

ایف آئی اے کے مطابق اے ایس آئی مصور نقوی را سلیپرسیل کا اہم رکن ہے۔ ملزم کراچی ایئرپورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا
ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا تھا، محمود صدیقی کی ہدایت پر ملزم کو رقم فراہم کی جاتی تھی۔ ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے انڈیا بھی جا چکا ہے ملزم ایئرپورٹ پر ساتھیوں کی آمدورفت میں سہولت کاری بھی کرتا تھا

ایف آئی اے کے مطابق ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے ،کراچی پولیس کا ایک اے ایس آئی پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے ۔بھارتی خفیہ ایجنسی را کے 6 مبینہ ملزمان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں ،گرفتار ملزمان سے جے آئی ٹی تحقیقات کر رہی ہے ۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل کے اہم رکن آصف صدیقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم آصف صدیقی 17 گریڈ کا سرکاری ملازم تھا،

ملزم بھارتی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتا تھا اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں اہم معلومات بھارت بھجواتا تھا، اس حوالہ سے ملزم نے کئی ای میلز کی ہیں، ملزم نے حساس مقامات کی تصاویر اور تفصیلات بذریعہ ای میل بھارت بھیجی ہیں.

ملزم آصف صدیقی اسلحے کی ترسیل میں بھی ملوث ہے، ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے،

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بیس اپریل کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اے ایس آئی گرفتارکر لیا گیا تھا،پولیس کے مطابق ایس آئی یو پولیس اور اداروں نے گلستان جوہر میں کاروائی کی،اے ایس آئی شہزاد پرویز شاہراہ فیصل تھانے میں تعینات تھا۔ ملزم شہزاد پرویز کو محمود صدیقی گروپ کی جانب سے بھاری رقم فراہم کی جارہی تھی ،گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے

پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ٹارگٹ کلرز کی ٹیم کا اہم رکن بتایا جاتا ہے ،ملزم اہلکار ایم کیوایم لندن سے وابستہ ہے،اے ایس آئی شہزاد پرویز گلستان جوہر کا رہائشی ہے،گرفتار اہلکار کے قبضے سے 2 دستی بم برآمد کئے گئے تھے

قبل ازیں  یکم اپریل کو بھی شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار ملزمان کی جانب سے انکشاف کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ایک دفتر پر اداروں نے چھاپہ مارا اور ایک مشین گن، دو پستول اور گولیاں برآمد کر لی

اداروں نے چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر بھی برآمد کر لیا،ملک کے خلاف ذہن سازی کا لٹریچر بھی برآمد کیا گیا،ملزم ماجد نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں اپنا آفس بنا رکھا تھا،گروہ کے سرغنہ شاہد متحدہ کی ہدایت پر آفس بنایا گیا تھا

کاروائی جے آئی ٹی میں انکشافات کے بعد کی گئی،ایف آئی اے نے ملزمان کے زیراستعمال آئی پی کی جانچ پڑتال کر لی ،ملزمان کو بھارت سے تخریب کاری کے لیے ہدایات ملتی تھی ،ای میل ریکارڈ اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا گیا ،ملزمان شاہد متحدہ عادل انصاری اور ماجد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی،

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

چھاپوں کے دوران ملک کی اہم تنصیبات کی تصاویر نقشے اور چیک بکس برآمد ہوئیں،ایس آئی یو پولیس اور ایف آئی اے نے کارروائیاں تیز کر دیں ،اورتحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا

بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار