fbpx

کمر توڑ مہنگائی تحریر: احسان الحق

مہنگائی کے حوالے سے آج کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حسب روایت اور حسب توقع بڑھا دی ہیں. پیٹرول پانچ روپے اضافے کے ساتھ 123.30 کا ملے گا، ڈیزل پانچ روپے اور ایک پیسے کے اضافے کے ساتھ 120.04 میں دستیاب ہوگا. مٹی کا تیل پانچ روپے اور چھیالیس پیسے اضافے کے ساتھ 92.26 میں اور لائٹ ڈیزل آئل پانچ روپے اور بانوے پیسے اضافے کے ساتھ 90.69 میں فروخت ہوگا. مہنگائی، معاشی اور اقتصادی حوالے سے موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ متعدد کام یا ان کے اعدادوشمار یا نرخ ملکی تاریخ میں پہلی بار اور بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ان میں سے چند ایسے کام یا کارنامے ہیں جو یقیناً ملک اور ملکی معیشت کے لئے بہت اچھے ہیں. مہنگائی کے حوالے سے بیشتر ایسے معاملات بھی ہیں جو قوم و ملک اور بالخصوص غریب عوام کی آئے روز کمر توڑ رہے ہیں. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل جو کہ ہمیشہ قیمتوں کے اضافے کی صورت میں ہوتا ہے، موجودہ حکومت نے ماہوار سے تبدیل کر کے پندرہ دن کر دیا ہے. پہلے ہر ماہ کے آخر میں نئی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا مگر اس حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار دورانیہ تئیس دن سے کم کرکے پندرہ دن کر دیا ہے.

شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہو جس ہفتے کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو. روز مرہ استعمال کرنے کی اشیاء اور اشیائے خوردونوش کے نرخ تو باقاعدگی اور تسلسل سے بڑھائے جا رہے ہیں. بجلی کے نرخ بھی ہر دوسرے مہینے بڑھائے جا رہے ہیں. حکومت کا موقف ہے کہ سابقہ حکومت کی ناکام اور معیشت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی ہو رہی ہے. آئی ایم ایف کی بھاری اور کڑی شرائط کے بعد ہمیں قرض ملا، ان شرائط پر عملدرآمد کیلئے قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں. مختلف نئے محصولات کا لگانا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بجلی کے نرخ بڑھانا یہ وہ شرائط ہیں جن پر عملدرآمد کئیے بغیر قرض کی رقم ملنا مشکل ہے. یہاں تک مہنگائی یا بجلی مہنگی ہونے کی سمجھ آتی ہے. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ بھاری بجٹ خرچ کر کے پیٹرولیم مصنوعات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں. مگر دالیں، گھی، چینی، سبزیاں اور باقی روز مرہ زندگی کے استعمال کی چیزوں میں مسلسل اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے. یہ وہ اشیاء ہیں جو مقامی ہیں. پاکستان میں ہی اگائی یا بنائی جاتی ہیں.

تین سال پہلے کی قیمتیں اور موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے چیدہ چیدہ اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ کر لیتے ہیں. یاد رہے کہ ذیل میں دئے گئے اعدادوشمار اور اشیاء کی قیمتیں علاقوں کے لحاظ سے اوپر نیچے ہو سکتی ہے اور یہ اعدادوشمار سرکاری نہیں. لہذا راقم ان اعدادوشمار اور نرخ ناموں سے بری الذمہ ہے.

 تین سال میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 700 سے 1300 کا ہو چکا ہے. مارچ اپریل 2018 میں 55 روپے فی کلو چینی میں نے خود خریدی تھی. چینی 55 سے 110 یا 115 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے. 135 روپے فی کلو والا گھی اب 335 سے بھی اوپر مل رہا ہے. دال چنا 120 سے 170 کی ہو گئی ہے. دال ماش 200 سے 260، باجرہ 50 سے 100، بڑا چاول 40 سے 80، سیلہ چاول 90 سے 160، لوبیہ 150 سے 220 اور دودھ 80 روپے فی لیٹر سے 130 تک کا ہو چکا ہے. پیٹرولیم مصنوعات کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ سے ہے. اس لئے ان کی قیمتوں پر زیادہ بات نہیں کرتے.  سونے کا نرخ بھی 60 ہزار سے ایک لاکھ پندرہ ہزار سے اوپر ہے. ڈالر بھی اوپر کی طرف جا رہا ہے اور ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. موٹر ویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر، ڈاک خانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچ چکا ہے. بجلی کی قیمتوں نے غریب عوام کو تقریباً آدھ موا کر دیا ہے. تین سال پہلے بجلی کا یونٹ 8 روپے تھا اب 20 سے بھی اوپر کا ہے. رواں ہفتے نیپرا نے ایک بار پھر 1.38 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا. گیس کے سلینڈر پر بھی تین سو فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے. دواؤں کی قیمتیں بھی دوگنا سے تین گنا بڑھ چکی ہیں.

امریکی ڈالر 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. ڈالر بڑھنے سے ملکی قرض پر 1800 ارب کا اضافہ ہوا ہے. یہ بھی موجودہ حکومت میں ہوا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار گرمیوں میں گیس کا بحران پیدا ہوا. پچھلے ہفتے حکومت پاکستان نے دو لاکھ ٹن چینی بیرون ملک سے خریدنے کا معاہدہ کیا. اطلاعات کے مطابق حکومت نے 84 روپے فی کلو کے حساب سے مقامی چینی خریدنے کی بجائے غیر ملکی چینی خریدنے کو ترجیح دی جو فی کلو 123 روپے میں پڑے گی. مطلب تقریباً 38 روپے فی کلو مہنگی چینی خریدی جا رہی ہے. اب اس فیصلے یا مجبوری کے پیچھے کیا عوامل اور محرکات ہیں، ان کی تفصیل میرے پاس فی الوقت دستیاب نہیں.

موجودہ حکومت کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ کچھ کام ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوئے اور قیمتیں ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں. ملکی تاریخ میں پہلی ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ڈالر بڑھنے سے 1800 ارب کا ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا. ایل این جی کی قیمتیں بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں اور حیران کن اور ناقابل یقین طور پر ملکی تاریخ میں پہلی بار قوم نے گرمیوں میں گیس بحران کا سامنا بھی کیا. بجلی کے بل بھی پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں، آٹے کا نرخ بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے، آٹے کا 20 کلو والا تھیلا تقریباً 1200 سے 1300 کے درمیان مل رہا ہے. غالباً چینی کی قیمت بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے.

دوسری طرف بہتری اور اچھائی کے حوالے سے کچھ ایسے کام بھی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہیں جیسا کہ ایکسپورٹس بلند ترین سطح پر ہیں، کسانوں کو ان کی محنت کے بدلے گندم کا نرخ بلند ترین سطح پر دیا جا رہا ہے، گنے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر ہیں، کپاس کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر ہے. غیرملکی زرمبادلہ بھی بلند ترین سطح پر ہے، سمندر پار پاکستانیوں نے ملکی تاریخ کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے قومی خزانے میں تاریخ کا سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا. گزشتہ پچاس سالوں میں ڈیموں کی تعمیر بھی بلند ترین سطح پر ہے مطلب 1967 کے بعد ملک میں قابل ذکر ڈیموں پر کام نہیں کیا گیا. موجودہ حکومت نے متعدد بڑے ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے. سی پیک اور دوسرے شعبوں میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے.

آئندہ عام انتخابات میں موجودہ حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز مہنگائی ہوگی. عام پاکستانی کو س پیک، ملکی قرضوں، گرے لسٹ، خارجہ پالیسی، غیر ملکی قرضے کی واپسی، ایکسپورٹس میں اضافہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کا کیا پتہ؟ غریب آدمی کے لئے گھی، دالیں، پیٹرول، ادویات، جیسی بنیادی چیزیں ہی سب کچھ ہیں. اگر ان چیزوں کی قیمتوں اور مجموعی طور پر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو تحریک انصاف کو آئندہ عام انتخابات میں جھٹکا لگ سکتا ہے.

@mian_ihsaan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!