fbpx

عالمی برادری افغان طالبان کےساتھ تعاون کرے :پاکستان بھی پُرامن انتقال اقتدارکا خواہاں ہے:ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد:عالمی برادری بہترافغانستان کے لیے افغآن طالبان سے تعاون کرے:پاکستان بھی پُرامن انتقال اقتدارکا خواہاں ہے:ترجمان دفترخارجہ نے آج پھرپاکستان کے موقف کودنیا کے سامنے پیش کردیا ، اطلاعات کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان افغان صورتحال پر دنیا بھر کے رہنماؤں سے رابطے میں ہے،

ترجمان دفترخارجہ زاہد چوہدری نے اس موقع پر کہاکہ پاکستان کے سفیر منصور علی خان نے سابق صدر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی، انہوں نے طالبان قیادت سے بھی ملاقات کی ہے، افغان سیاسی قیادت نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، اس ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کے طالبان کا بیان خوش آئند ہے، لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان کا بیان بھی احسن اقدام ہے، عالمی برادری افغانستان کی تعمیر نو اور قیام امن کے لئے آگے آئے اور مثبت طریقے سے افغانستان کے ساتھ تعاون کرے، افغانستان میں بڑے پیمانے پر تشدد نہیں پھیلا،

ترجمان دفترخارجہ زاہد چوہدری نے پاکستان کے موقف کودہراتے ہوئے کہا کہ تمام افغان سیاسی قیادت کو مستقبل کی حکومت کے لئے کوششیں کرنی چاہئیے، پاکستان افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار کا حامی ہے، پاکستان افغانستان سے سفارتکاروں اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ارکان کے انخلا کے لئے بھی کام کررہا ہے، پاکستان نے وزارت داخلہ میں خصوصی سیل تشکیل دیا ہے، افغانستان میں پاکستان کا سفارتخانہ بھی کھلا ہے جو عالمی اداروں کو قونصلر سروسز فراہم کررہا ہے، آج پی آئی اے کے ذریعے چارسو غیر ملکی سفارتکاروں اور اہلکاروں کا انخلا کیا۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دہشت گرد اور کالعدم تنظیم ہے، اس تنظیم پر پاکستان اور اقوام متحدہ نے پابندی لگائی ہے، ٹی ٹی پی کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے پر کارروائی کرنی چاہئیے، پاکستان آئندہ کی افغان حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کرے گا، جو تنظیم بھی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اس کے خلاف کاروائی ہونی چائیے، امید ہے مستقبل میں افغان سرزمین پاکستان مخالف استعمال نہیں ہوگی۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں نہیں بلکہ وہاں موجود دہشت گرد گروہوں پر سرمایہ کاری کررہا تھا، بھارت نے پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرکے اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا، پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کئے، بھارت سمیت کچھ ممالک نے پاکستان اور افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کام کیا، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی، اب طالبان نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کا مثبت اشارہ دیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان میں وسیع البنیاد اور سب کو قابل قبول حکومت قائم ہونی چائیے، مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے خود کرنا ہے، بین الاقوامی برادری کو افغان ڈیفنس فورسز کی کارکردگی اور گورننس پر توجہ دینی ہوگی، افغان فورسز کے پاس جدید ہتھیار اور جہاز تھے جوکہ طالبان کے پاس نہیں تھے،

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں‌ کہا ہے کہ پاکستان کی پوزیشن بہت واضح ہے، ہم نے ہمیشہ سہولت کار کا کردار ادا کیا، طالبان کے ساتھ پاکستان مستقل رابطے میں رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ افغان عوام خود اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں، پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا، پاکستان عالمی برادری کے ساتھ افغان مسئلے پر رابطے میں ہے۔

مودی سرکار کی جانب سے علی گڑھ کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی شہر علی گڑھ کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں، مودی سرکار پورے بھارت میں ہندوتوا کو فروغ دے رہی ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کی ترقی ، خوشحالی اور بہترافغانستان کے لیے اپنی اخلاقی اورسفارتی مدد جاری رکھے گا