‘بائیکاٹ زارا’، فلسطینیوں کا مذاق اڑانے پر انٹرنیشنل فیشن برانڈ پر شدید تنقید

فوٹو شوٹ میں فلسطینیوں کی بے بسی کی صورتحال کو دکھایا گیا ہے
0
151
palestine

غزہ میں حملے روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیل کی خون ریزی جاری ہے، ایسے میں معروف ہسپانوی فیشن برانڈ زارا (zara) نے تازہ ترین تشہیری مہم ’دی جیکٹ‘ سے سوشل میڈیا پرایک نئے تنازع کا آغاز کردیا۔

باغی ٹی وی: زارا کی تشہیری مہم میں امریکی اداکارہ کرسٹین میک مینامی کو اپنے ارد گرد کفن میں ملبوس پُتلوں کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے اس مہم نے غزہ جنگ کی یاد دلانے والی متنازع تصاویر کی وجہ سے عوامی غم و غصے کو جنم دیا اور سوشل میڈیا پر اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے زارا کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا اس شوٹ میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے کفن دفن کی طرح سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی چھوٹی لاشوں کو دکھایا گیا ہے، اس کے علاوہ اس فوٹو شوٹ میں فلسطینیوں کی بے بسی کی صورتحال کو دکھایا گیا ہے۔

اس میں ملبے کا ڈھیر، گمشدہ اعضاء کے مجسمے وغیرہ دکھائے گئے جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا ہے، لوگ اسے دیکھ کر شدید غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں، تاہم اس کے بعد سے برانڈ نے بظاہر اس تصویر کو حذف کردیا ہے جس میں ایک ماڈل کو اپنے کندھوں پر ایک لاش نما پتلا اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا، سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی لاش، جس طرح فلسطینی ماؤں کو کفن میں لپیٹ کر دفن کرنے سے پہلے اپنے مردہ بچوں کو گلے لگاتے دکھایا گیا تھا۔

 

اس تشہیری مہم کو معصوم فلسطینیوں پرمظالم اور ان کی نسل کشی کیلئے استعمال کیے جانے پر فیشن برانڈ کو شدید تنقید کا سامنا ہے صار فین کے مطابق یہ اقدام فلسطینیوں پر مظالم سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم برانڈ کی جانب سے اس حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی،صارفین نے زارا کی اس تشہیری مہم کو غزہ کے لوگوں کے مصائب سے منافع خوری قراردیتے ہوئے تبصروں میں کڑی تنقید کی۔
https://x.com/aMrazing/status/1733772813411192863?s=20
الیگزینڈر نامی صارف نے اس فوٹو شوٹ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ‘میں انتہائی حیران ہوں کہ فلسطین میں لوگوں کی نسل کشی کو یہ لوگ اپنی مہم کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ میں کبھی بھی زارا سے کچھ نہیں خریدوں گا، یہ ظالمانہ، سنگدل اور بری بات ہے، 20 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا مذاق اڑانے والی مہم جوئی؟
https://x.com/weird_mystery_/status/1733841217836990632?s=20
اقرا نامی صارف نے کہا کہ یہ مہم انسانیت کے خلاف ہے اتنا بڑا برانڈ پبلسٹی اسٹنٹ کے لیے ایسا کیسے کرسکتا ہے، یہ انسانیت کے خلاف ہے-
https://x.com/jibrankhan78634/status/1733697312814477341?s=20
جبران خان نے اسے ’قابل نفرت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زارا فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا مذاق اڑا رہا ہے اور بے گناہ شہریوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی کو فروغ دے رہا ہے۔
https://x.com/KufiyyaPS/status/1733853507164254488?s=20
غزہ سے تعلق رکھنے والی مریم نے بھی اس طرح کی مہم دیکھ کر شدید حیرت کا اظہارکیا،کہا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنی پوری زندگی میں ایسا کچھ دیکھوں گی، آپ جتنا چاہیں لالچی ہو سکتے ہیں لیکن اپنے منافع کے لیے نسل کشی کا فائدہ نہ اٹھائیں-

جہاں صارفین نے مذمت کی وہیں اداکارہ اشنا شاہ سمیت بھارتی اداکارہ گوہر خان اور متعدد سوشل میڈیا صارفین نے مشہور انٹرنیشنل فیشن برانڈ ‘زارا’ کو اس کے غیر حساس فوٹو شوٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے،ہر معاملے میں آواز اٹھانے والی اشنا شاہ نے زارا کے حالیہ فوٹو شوٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان افراد کو جن کے پاس زارا برانڈ کے کپڑے ہیں، کیا انہیں تمام کپڑے پھینک دینے چاہئیں؟
https://x.com/ushnashah/status/1733732835658232308?s=20
اداکارہ کی جانب سے برانڈ کی حالیہ مہم کی مذمت کی گئی اور سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ٹوئٹ کی،اشنا شاہ نے لکھا ‘کیا ہمیں زارا کے پہلے سے موجود کپڑے پھینک دینے چاہئیں یا نئے نہیں خریدنے چاہئیں؟’چونکہ ان کے کپڑوں پر ان کے برانڈ کا نام نہیں ہوتا، تو میرا نہیں خیال ان کے جو کپڑے ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں انہیں پھینک دینا چاہیے،’ظاہر ہے، ان کے برانڈ سے دوبارہ کپڑے قطعاً نہیں خریدوں گی’۔

اداکارہ مشی خان نے بھی زارا برانڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے کپڑے دوبارہ تاحیات نا خریدنے کا عہد کیا،اس کے علاوہ اس فوٹو شوٹ پر بھارتی اداکارہ گوہر خان جو کہ گزشتہ کئی روز سے فلسطین کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں، انہوں نے بھی ردعمل دیا اور زارا کے مصدقہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصاویر کے نیچے کمنٹ کیا،گوہر نے لکھا ‘آپ کو شرم آنی چاہیے’، ساتھ ہی اداکارہ نے ‘فری فلسطین’ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا،علاوہ ازیں پاکستانی ماڈل و اداکارہ رحمت اجمل نے بھی اس کیمپین کو بدترین، اور پاگل پن قرار دیا۔

Leave a reply