ایران کے صرف ایک شہر میں 40 مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا، باقی شہروں میں صورت حال مزید خراب

0
33

ایران کے صرف ایک شہر میں 40 مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا، باقی شہروں میں صورت حال مزید خراب

تفصیلات کے مطابق ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو گنا اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک شہر’شہریار’ میں پولیس کے وحشیانہ حملوں میں 40 مظاہرین کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا جب کہ 330 زخمی ہونے کے بعد اسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں۔

خیال رہےکہ ایرانی رجیم کی پالیسیوں سے تنگ عوام نے گذشتہ ماہ اس وقت حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا جب ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ کردیا گیا۔

ایرانی حکومت نے مظاہرین کو ایک دوسرے سے رابطے سے محروم رکھنے کے لیے انٹرنیٹ بند کردیا۔ اب بھی ایران کے صوبہ بلوچستان اور اھواز شہروں میں انٹرنیٹ تک رسائی بدستور معطل ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مظاہرین کے احتجاج میں کافی تشدد بڑھ رہا ہے، اور پچھلے چند دنوں سے اس میں بہت تیزی آئی ہے ، اس سے قبل پیر کے روز ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اطلاع دی تھی کہ 15 نومبر کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے مظاہروں میں ایران بھر میں کم از کم 143 مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔
جس میں‌کہا گیا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 143 ہے۔ تقریبا تمام اموات آتشیں اسلحہ کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ ایک شخص آنسو گیس کی شیلنگ سے ہلاک ہوا تھا اور ایک کی موت تشدد کے نتیجے میں واقع ہوئی۔
ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی تعداد مزید تشویشناک ہو گئی

Leave a reply