جب دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو ہم اپنے مسائل کا حل ادھر ادھر کیوں ڈھونڈتے ہیں؟
اغیار نے وہ تمام چیزیں اپنا کر کامیابیوں کے زینے طے کر لئے،
وہ چیزیں ہم نے اپنانے کے بجاۓ چھوڑ دیں اور خواب غفلت کا شکار ہو کر نہ ادھر کے رہے اور نہ ادہر کے
بقول شاعر
نہ خدا ہی ملا،نہ وصال صنم
نہ ادھر کے ہوۓ نہ ادھر کے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج والم،
نہ ادھر کے ہوۓ،نہ ادھرکے
ہم نے دوسروں کی تقلید کی بھی تو غلط کاموں میں۔
انہوں نے محنت،سچ اور ایمانداری کا راستہ اپنایا تو ہم بھٹکی روح کی طرح جھوٹ،مکرو فریب اور شارٹ کٹ کے پیچھے لگ کے ہر وہ کام کرنے لگے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔
لوگ آج چین ،جاپان اور کوریا جیسے ملکوں کی ترقی کی بات کرتے ہیں۔
وہ لوگ جس کام میں لگ جاتےہیں،
اس کو پایہ تکمیل تک پہچا کر چھوڑتے ہیں۔انکا پر عزم ہونا ہی انکی کامیابی کی دلیل ہے۔
ان کے ہاں جھوٹ موٹ کی بیماری کا بہانہ کر کے ڈیوٹی سے چھٹی کا تصور بھی نہیں،
جبکہ ہمارے ہاں اکثریت ایسا کرتی ہے۔ہم سب ایسی بیماریوں کا شکار ہیں۔
جو لوگ اپنے اپنے اداروں پر احسان کر کے دفاتر میں چلے جاتے ہیں۔
اُن میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ڈیوٹی کے پورے اوقات کار میں کام کرتے ہیں۔
میرے خیال میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
آجکل ہم جس سنگین مسئلے سے دوچار ہیں،وہ خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی ہے،جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے۔
کوئ کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگادی جاۓ،
کوئ کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز پر ایسے تفریحی مقامات پر داخلے پر پابندی عائد کر دی جاۓ۔
کوئ بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم سب اپنے اوپر ان ضابطوں کا اطلاق کر لیں ،جو ہمارے پیارے مذہب نے ہمارےلئے بناۓ ہیں۔
ایسا کرنے سے سب مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
سب کی عزت نفس بحال ہو سکتی ہے۔سب کو شرم وحیا کے پہروں تک رسائ ہو سکتی ہے۔
کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
ٹک ٹاک جیسی اپلی کیشن پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں۔
ہمیں اپنے اندر چھپے ہوۓ شیطان پر پابندی لگانا ہو گی۔
اس میں کوئ دو راۓ نہیں کہ
ٹک ٹاک فحاشی پھیلانے کا زریعہ بن رہا ہے۔
مگر اسکا انحصار بھی ہماری سوچ پر مبنی ہے۔
ہر چیز کا مثبت اور منفی استعمال ہماری اپنی سوچ اور اپروچ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
ہو سکتا ہو کہ یہی ٹک ٹاک کسی کے رزق کمانے کا زریعہ ہو اور وہ بھی گندگی کے عنصر کے بغیر۔
جس طرح کچھ لوگ آجکل یو ٹیوب اور فیس بُک جیسی اپلی کیشنوں یا سوفٹ وئیرز سے کمائ کر رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ٹک ٹاک سے بھی اسی طرح کچھ لوگوں کی روزی روٹی منسوب ہو
مگر یہ کہنے کے باوجود ،رزق کا معاملہ اپنی جگہ،
کسی بھی اپلی کیشن کے زریعے عریانی اور معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔
نہ ہم اور نہ ہمارا معاشرہ اسکا متحمل ہو سکتاہے۔
اس سارے رولے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیا کا مسئلہ کچھ اور ہے۔
انہیں نہ ہماری معاشرتی اقدار سے کوئ غرض ہے اور نہ ہی پاکستان کی بہتری سے۔
بلکہ اگر یوں کہا جاۓ کہ اس
بےراہ روی میں ٹک ٹاک سے زیادہ منفی کردار اسی موم بتی مافیا کا ہے تو قطعا” غلط نہ ہو گا۔
یہ مٹھی بھر عناصر ہر وقت انتشار کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
چونکہ انکی ڈوریاں کہیں اور سے ہلتی ہیں اور انکے ڈانڈے بھی کہیں اور جا ملتے ہیں۔
اسلئے یہ ہمیشہ وہی کریں گے،
جو انہیں اپنے آقاؤں سے کرنے کو کہا جاۓ گا اور جو کرنے کے انہیں ڈالرز ملتے ہیں۔
مجھے جو تجویز مناسب لگتی ہے ،
وہ یہ ہے کہ کچھ پارکس اور تفریحی مقامات کو صرف فیملیز یا خواتین کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
وہاں چھڑوں کو جانے کی اجازت نہ ہو۔
ساتھ ہی ایسی جگہوں پر آنے والوں کے لئے قواعد وضوابط بنا دئیے جائیں کہ وہ ان جگہوں کے اندر ٹک ٹاک جیسا ٹھٹھا لگانے سے نہ صرف گریز کریں گے بلکہ ایسی جگہوں پر آنے کے لئے مناسب لباس کی بھی پابندی ہو گی۔
اسی طرح کچھ جگہوں کو صرف مردوں کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
اس طرح ہر کسی کو تفریح بھی مل جاۓ گی اور مینار پاکستان جیسے واقعات بھی رونما نہیں ہوں گے۔
گلف ممالک میں یہی فیملیز اور بیچلرز کے الگ الگ تفریحی مقامات کا فارمولہ کامیابی سے چل رہا ہے۔
ہم جیسے ملکوں کا ایک اور بھی مسئلہ ہے،وہ ہے قانون کی عملداری کا نہ ہونا،
یہاں قانون تو بن جاتے ہیں،مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔
یہی مسئلہ سب برائیوں کی جڑ بھی ہے،
رشوت اور سفارش سے سب ناجائز کام جائز ہو جاتے ہیں۔
اب جس طرح یہ تجویز سامنے آرہی ہے کہ کچھ تفریحی مقامات کو صرف فیملیوں کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
اب اگر ایسا کر بھی دیا جاۓ تو اس بات کو کون یقینی بناۓ گا کہ ان مقامات پر کھڑے سیکورٹی اہلکار رشوت لیکر بیچلرز کو ان پارکس میں داخل نہیں کروائیں گے۔
اسکو چیک کرنے کے لئے بھی کوئ میکانزم بنانا ہوگا۔
ان سب تدابیر کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اجتماعی زمہ داری ہے کہ لوگوں کی زہن سازی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو اس بات کا شعور دیں کہ ہمارا مذہب ہمیں کس طرح کی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے ؟
اگر ہم آج بھی اسلام کے بتاۓ ہوۓ قوانین اور ضابطوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو دنیا کی کوئ طاقت ہمیں ایک باشعور اور باوقار قوم بننے سے نہیں روک سکتی،
اسی نظام میں ہماری بقا اور کامیابیاں پنہا ہیں#

تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari

Shares: