fbpx

اسلام آباد ہائیکورٹ کا راول جھیل کے قریب کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں راول جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سی ڈی اے کو راول جھیل کے قریب کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے اور بورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کر لیے،ممبر بورڈ سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے نے ایک رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے، وزیراعظم پاکستان نے راول جھیل کے قریب تعمیرات کی اجازت دی،

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میں جو آپ سے پوچھ رہا ہوں اسکا جواب دیں، زمین کا الاٹمنٹ لیٹر کہاں ہے، مممبر سی ڈی اے نے عدالت میں جواب دیا کہ الاٹمنٹ لیٹر نہیں ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر سی ڈی اے نے کیا کارروائی کی، ممبر سی ڈی اے نے کہا کہ ہم نے نوٹسز دیے ہوئے ہیں،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا مطلب نوٹس دیے ہوئے ہیں،جائیں اور جا کر غیرقانونی عمارت کو گرائیں، غریب آدمی کے ساتھ سی ڈی اے کیا کرتا ہے یہ دوہرا معیار کیوں،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بتائیں نیوی سیلنگ کلب کی عمارت قانونی ہے یا غیرقانونی، ممبر سی ڈی اے بورڈ نے عدالت میں جواب دیا کہ میں کوئی قانونی بندہ نہیں ہوں جو کوئی رائے دوں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ سی ڈی اے بورڈ کی نمائندگی کر رہے ہیں، آپکو معلوم ہے کیا کر رہے ہیں، ممبر بورڈ سی ڈی اے نے کہا کہ نیوی سیلنگ کلب غیرمنظور شدہ ہے، عدالت نے کہا کہ غیر منظور شدہ کیا ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ غیرقانونی ہے،

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن جا کر سیلنگ کلب سیل کریں، اور آئندہ سماعت تک سیل رہے، اگر سیل نہ کیا گیا تو آئندہ سماعت پر سیکرٹری کابینہ عدالت میں پیش ہوں، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں، قانون کی بالادستی ہو گی کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اس کے آس پاس کس کا قبضہ ہے، عوام کو وہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے،ممبر سی ڈی اے بورڈ نے کہا کہ عوام کو وہاں جانے میں کوئی پابندی نہیں ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سی ڈی اے ممبر بورڈ بتانے میں کترا رہے ہی‍ں کہ کمرشل بلڈنگ پاکستان نیوی کی ہے اور غیرقانونی ہے،

نمائندہ پاکستان نیوی نے عدالت میں کہا کہ ہمیں کچھ وقت دیں ہم جواب جمع کرائیں گے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کس بات کا وقت، اس عدالت سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، آپکی بہت عزت ہے آپکے شہیدوں کیلئے ہم کسی قسم کی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن اگر آپ غیرقانونی کام کریں گے آپ ان شہیدوں کے ساتھ زیادتی کریں گے، آپ کیوں اس چیز کا دفاع کر رہے ہیں جس کا دفاع نہیں کر سکتے،

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے اور بورڈ ممبرز کے خلاف مبینہ غفلت پر کارروائی کا آغاز کیوں نہ کیا جائے، یہ کوئی قبائلی علاقے نہیں ہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ معاونت نہیں کر سکتے پہلے جائیں اور بلڈنگ سیل کریں،نیوی نے کس قانون اور اتھارٹی کے تحت کمرشل پراجیکٹس شروع کر دیے ہیں

عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر دی