fbpx

ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں. وزارتِ فوڈ سیکورٹی

وزارت فوڈ سیکورٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر ہیں۔

نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے اجلاس میں وزارت فوڈ سیکورٹی نے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزارت فوڈ سیکورٹی کے مطابق ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وفاق اور صوبوں میں گندم مطلوبہ مقدار میں موجود ہے۔ وزارت فوڈ سیکورٹی کا کہنا تھا کہ قومی طلب کے مطابق گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ گندم کی فراہمی اور ترسیل کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔

نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے جاری اعلامیہ کے مطابق: مزید وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ: گندم اور دیگر اشیائے خوردونوش کا 6 ماہ کے استعمال کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم موجودہ اسٹاک پچھلے سالوں کی مقدار سے زیادہ ہے. انہوں نے فورم کو بتایا کہ بعض کارٹیل صرف اپنے مفادات کے لیے گندم کی قلت کا جھوٹا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔ اس معاملے کے حقائق یہ ہیں کہ گندم کا 153 دن کا ذخیرہ دستیاب ہے اور 30.5 ملین ٹن گندم کی سالانہ قومی طلب کو یقینی بنانے کے لیے خریداری کے منصوبے جاری ہیں۔

تاہم فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ دیگر اہم غذائی اشیا کی دستیابی کو بھی یقینی بنائیں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی سیلاب سے متاثر خواتین کے لیے خشک دودھ اور غذائی سپلیمنٹس سمیت بچوں کی خوراک کو یقینی بنایا جائے. لیکن اس حوالے سے ایک شہری نے باغی ٹی وی اسلام آباد سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر سیٹزن نے کہا کہ: اگر واقعی پاکستان میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے تو پھر آٹا کیونکہ مہنگا ہے؟ انہوں یاد دلاتے ہوئے بتایا کہ 2010 میں بھی پاکستان میں اس وقت ملکی ضروریات سے بھی 10 لاکھ ٹن زیادہ گندم موجود تھی۔ لیکن بد قسمتی سے گندم کے وہ بھر پور ذخائر بھی پاکستان میں حکام ، عوام اور کاشتکاروں کو خوشیاں فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بن پائے تھے.