40 روز سے جبری طور پر آئسولیشن میں رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288 افراد نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

0
22

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف آسو لیشن سنٹرز میں گزشتہ 40روز سے جبری طور پر رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288افراد کی طرف سے نئی دہلی کی معروف سماجی کارکن خاتون صبیحہ قادری نے ہائی کورٹ میں ان کی افراد کی رہائی کے لئےدرخواست دی ہے. سینئر وکیل شاہد علی کی وساطت سے دی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئسولیشن کے نام پرمختلف ممالک سے دہلی میں حضرت نظام الدین کی درگاہ پر آنے والے ان افراد نے تین مرتبہ کورونا ٹیسٹ کروائے جو ہر مرتبہ منفی آئے. اس کے باوجود ان تمام افراد کو ان کے گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.اس کے علاوہ دو افرادان آئسولیشن سنٹرز میں انتقال بھی کر گئے لیکن انتظامیہ نے ان وفات پانے والے افراد کے بارے میں بھی نامناسب رویہ اختیار کیا اور انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا گیا.درخواست میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی بنائی جائے کیونکہ دونوں افراد شوگر کے مریض تھے لیکن ان کی ادویات کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا.واضح رہے کہ دہلی کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ 6 مئی کوآئسولیشن کی مدت پوری ہونے والے افراد کو ان کے گھروں میں بھیج دیا جائے گا لیکن اب تک 10 روز گزرنے کا باوجود انہیں گھروں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.

Leave a reply