جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جا رہے ہیں اور سائنس نئی نئی ایجادات کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے ہم دینِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔آج کل کچھ لوگ موڈرنزم یعنی جدیدیت کا ٹھپہ لگوا کر کہتے ہیں ہماری سوچ تو ایڈوانس ہے ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں جو چاہیں کریں ۔ان لوگوں کو میں بتا دینا چاہتی ہوں یہ جدیدیت نہیں ہے یہ بغیرتی ہے۔ جس میں آج کل کے مسلمان دینِ اسلام کو بھول کر یہودی و أنصاریٰ کے نقشے قدم پر چلنا شروع ہوگے ہیں۔
جس میں پردہ والی خواتین, داڑھی والے مرد اور سنت نبویﷺ پر چلنے والے مسلمان مرد و خواتین کو پتھر کے زمانے کا کہا جاتا ہے ۔جبکہ اگر کوئی لڑکی یا مرد آدھے کپڑے پہن لے یا مرد خواتین اور خواتین مرد کے کپڑے پہن لیں تو اس کو فیشن ایبل کہا جاتا ہے اس کی واہ واہ کی جاتی ہے ۔ایک ناچنے والے کنجر مرد و خواتین کو مختلف ٹیلی ویژن پروگرامز میں بلا کر ان کی تعریفوں کے امبار لگاۓ جاتے ہیں۔ لیکن ایک حافظ قران ایک عالم کو کبھی مدعو کر کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ ان کے خیال میں ٹیلی ویژن میں معذرت کے ساس بہو سسر ،بھابی دیور کے افیئرز تو دیکھاۓ جاتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں دیکھایا جاتا کہ ہمارا دین اسلام گھریلو نظام پر کیا تعلیمات دیتا ہے ۔ آج کل کی کچھ نام نہاد عورتوں کو آزادی چاہیے آزادی کس سے چاہیے مذہب سے چاہیے یا بھائی شوہر باپ خاوند سے! عورت کو اسلام سے بڑھ کر عزت اور آزادی اور کون دے گا جس اسلام سے پہلے جب بیٹی پیدا ہوا کرتی تھی تو عورت کو زندہ دفن کر دیا جاتا اسی اسلام نے عورت کو عزت دی زندگی بخشی اور عورت کو اللّٰہ کی رحمت کہا۔
اب بات کی جاۓ عورت کے حقوق کی تو عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔ایک عورت کا حق ہے اس کا شوہر اس کا مکمل خیال رکھے اس بنیادی ضروریات اوراسکی خوشی اور پریشانی میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ اس کا ہاتھ بٹاتا ہے تو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں رسول اللّٰہ ﷺ بھی اپنی ازواج مطہرات ؓ کے ساتھ گھر کے کام کاج کروایا کرتے تھے۔ یہ بیغیرتی نہیں تو اور کیا جب میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگتے ہیں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوتا۔ سرِعام خواتین کچھ طلاق یافتہ عورتین خاندانی نظام کی دھجیاں اڑاتی پھرتی ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جو جسم جو جان ہمارے پاس اللّٰہ تعالی کی امانت ہے ہم ایک ایک سانس تک اللّٰہ تعالی کے مہتاج ہیں اس پر ہماری مرضی کیسے ہو سکتی ہے ۔قران و حدیث میں زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط اور مکمل رہنمائی موجود ہے لیکن افسوس ہمارے قران تو الماریوں میں پڑے پڑے ان پر دھول اور مٹی چڑھ چکی ہے ہم کو یاد نہیں کہ آخری مرتبہ ہم نے قران پاک کو کب ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔
آج کل الیکٹرانک میڈیا پر صرف فحاشی دیکھائی جاتی نوجوان نسل کے زہنوں کو گندہ اور زنگ آلود کیا جارہا ہے ۔ایسے ڈرامے بناۓ جا رہے ہیں جو ایک عزت دار بندہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا ۔ اب تو اتنی بیغیرتی بڑھ گئی کے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم پستی کی کس انتہا کو پہنچ گے ہیں کہ یورپ کی طرح اب یہاں بھی مرد کی مرد کے ساتھ شادی کی باتیں ہونے لگی ۔مطلب کہاں گیا ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا ان کو کوئی روکنے والا نہیں ! کیا ان پر کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ! کیا کوئی اسلامی قانون چلے گا ہمارے ملک میں !
آج کل بہت سے ممالک اَن گنت ڈالر صرف اس پر خرچ رہے ہیں کہ ایک مسلمان لڑکی اپنا پردہ اتار دے نقاب نا پہنے آج کل مختلف کیمپئن کے نام پر پردہ کے خلاف پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے میں یہاں اپنی بہنوں کو بتا دینا چاہتی ہوں آپ کی عزت نقاب اور پردہ میں ہے۔ جب دنیا کی سب سے عزت دار عورت جو جنت میں عورت کی سردار ہیں حضرت فاطمہ ؓ ان پر پردہ فرض تھا تو آپ اور میں کیا ان سے پاک دامن آگئی ہیں !! آج جب پردہ کی بات کی جاۓ تو جواز یہ پیش کیا جاتا ہے ہمارا زہن صاف ہے کیا آپ کا زہن حضرت فاطمہ ؓ سے صاف ہے ! کیا آپ ان سے بھی پاک ہیں ! اگر نہیں تو جب انہوں نے ساری زندگی پردے میں گزاری تو آپ اور میں کیوں نہیں !
پرسوں ایک محترمہ نے کہا عید الضحی پر جانور قربان کرنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ سب کو عید مبارک ۔۔میں اس محترمہ کو بتاتی چلوں آپ رکھیں اپنی مبارکباد اپنے پاس ہمیں تو قران سے یہ درس ملتا آپ کی عید الضحی اس وقت ہوگی جب آپ جانور قربان کریں گے ۔تو آپ نام نہاد کون ہوتی ہیں مسلمانوں اور عید الضحی پر تنقید اور طنز کرنے والی !
جب کے ایف سی اور میکڈونلڈ روزانہ ملین کے حساب سے مرغیاں زبح کرتے ہیں اور آپ شوق سے کھاتی ہیں تب آپ جانوروں کے حقوق کےلیے کیوں نہیں بولتی ہیں ! جب سپین میں ایک تہوار میں لاکھوں بیلوں کو چھریوں سے کاٹ دیا جاتا ہے تب آپ کی جانوروں سے ہمدردی کہاں جاتی ہے !
ایک اندازے کے مطابق برازیل نے صرف سال 2021 ایک اعشاریہ آٹھ ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے اسی طرح امریکہ اور انڈیا نے بھی ایک اعشاریہ چار ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے تب آپ کیوں نہیں بولی ! سب سے بڑھ کر جب فلسطین اور کشمیر میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ان کو جانوروں سے بھی درد ناک طریقے سے شہید کیا جاتا ہے آپ تب کیوں نہیں بولتی ہیں؟
یہ جانوروں سے ہمدری آپ کو صرف عید الضحی پر یاد آتی ہے جب ان غریبوں اور مستحق افراد میں گوشت تقسم کیا جاتا ہے جو سارا سال گوشت کھانے کےلیے صرف عید الضحی کا انتظار کرتے ہیں ! میں تمام مسلمان خواتین بہن بھائیوں سے التجاء کروں گی قربانی کی ہڈیا ضائع نا کریں بلکہ اس جیسے جدت پسند بیغرتوں کو ڈالیں ۔
آخرمیں میری جسم میری مرضی اور تمام ان جدت پسند اور اسلام کو بھول کر یورپ اور یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنے والے مرد و خواتین کو بتا دوں کامیابی جدیدت میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پیچھے جا کر ہم سب کے پیارے رسول اللّٰہ ﷺ کی تعلیمات ان کی سنت اور قران مجید کی پیروی کرنے سے آۓ گی ۔ اللّٰہ پاک سب کو ہدایت دے.
@iitx_hadii








